مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 219
مجموعه اشتہارات ۲۱۹ جلد دوم بندر اور کتا کہیں گے تو تبھی کہیں گے جب شیطان اور بندروں اور کتوں کے صفات اس میں موجود ہو جائیں۔ پس جبکہ تمام دنیا کے اتفاق سے لعنت کا یہی مفہوم ہے تو یہ دو باتیں ایک وقت میں کب جمع ہو سکتی ہیں کہ ایک شخص بمقتضائے مفہوم لعنت خدا سے برگشتہ بھی ہو اور با خدا بھی ۔ اور خدا کا دشمن بھی ہو اور دوست بھی اور منکر بھی ہو اور اقراری بھی ۔ محبت کا تعلق لعنت کے مفہوم کو منافی ہے۔ جبھی کہ ایک پر لعنت پڑگئی اسی وقت خدا سے جتنے قرب اور محبت اور رحم کے تعلقات تھے۔ تمام ٹوٹ گئے اور ایسا شخص شیطان ہو گیا۔ اور سیاہ دل اور خدا کا منکر بن گیا۔ اب اگر خدانخواستہ کچھ دنوں تک یسوع پر لعنت پڑگئی تھی تو اس وقت اس کا خدا تعالیٰ سے ابنیت کا علاقہ اور پیارا بیٹا ہونے کا لقب کیونکر باقی رہ سکتا تھا کیونکہ بیٹا ہونا تو یک طرف خود پیارا ہونا لعنت کے مفہوم کے برخلاف ہے۔ خدا کے کسی پیارے کو ایک دم کے لئے بھی شیطان کہنا کسی شیطان کا کام ہے نہ انسان کا ۔ پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شریف آدمی ایک سیکنڈ کے لئے بھی یسوع کے لئے یہ تمام نام جائز رکھے جو لعنت کی حقیقت اور روح ہیں۔ پس اگر جائز نہیں تو دیکھو کہ کفارہ کی تمام عمارت گر گئی اور تثلیثی مذہب ہلاک ہو گیا اور صلیب ٹوٹ گیا۔ کیا کوئی دنیا میں ہے جو اس کا جواب دے؟ راقم غلام احمد قادیانی (۱۶ مارچ ۱۸۹۷ء) مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان (یہ اشتہار ۳۶۲۰ کے دو صفحوں پر مشتمل ہے) تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۳۳ تا ۳۵)