مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 214

مجموعه اشتہارات ۲۱۴ جلد دوم کہ یسوع کی ذات کے لیے وہ نشان ایسے سمجھے جائیں جس سے اس کی الوہیت بپایہ ثبوت پہنچ جائے اور اس کے خدا ہونے میں کچھ بھی کسر نہ رہے۔ پھر جب وہی نشان بلکہ بقول یسوع اُن سے بھی کچھ بڑھ چڑھ کو کسی دوسرے مدعی الہام سے صادر ہوں تو اُس بے چارے کا ملہم ہونا بھی اُن سے ثابت نہ ہو سکے۔ یہ کس قسم کا اصول اور قاعدہ ہے؟ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے؟ پھر مسیحیوں کو اس پر بھی اصرار ہے کہ یسوع کے نشان اقتداری نشان ہیں ۔ تبھی تو وہ خدا ہے ! بہت خوب! لیکن ذرا ٹھہر کر سوچو کہ اگر جھوٹے نبی سے نشان ظاہر ہوں تو وہ اقتداری ہی کہلائیں گے نہ اور کچھ۔ کیونکہ جھوٹا خدا سے دعا نہیں کرتا اور نہ خدا سے کچھ میل رکھتا ہے۔ سوا گر وہ کوئی نشان دکھلاوے تو اس میں کیا شک ہے کہ اپنے اقتدار سے ہی دکھلائے گا نہ خدا سے۔ پس ایسے اقتداری نشانوں سے اگر خدائی ثابت ہو سکتی ہے تو ایک کا ذب کی خدائی یسوع کی خدائی سے باعتبار ثبوت کے اول درجہ پر ہے۔ یسوع کے اقتداری نشانوں میں شبہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ راستباز تھا۔ ممکن ہے کہ اس نے نشانوں کے دکھلانے میں خدا سے مدد پائی ہو لیکن کا ذب کے اقتداری نشانوں میں اس شبہ کا ذرہ دخل نہیں کیونکہ وہ راستباز نہیں اور نہ خدا سے کچھ مدد پاسکتا ہے۔ اور نہ خدا اُس سے کچھ جوڑ اور تعلق رکھتا ہے پس اس مسیحی اصول کے موافق اگر کا ذب بڑے بڑے نشان دکھلاوے تو نبوت کیا اُس کی تو خدائی بھی نہایت صفائی اسے ثابت ہو سکتی ہے۔ سچے نشانوں کے امکان صدور کے لئے مسیح کا سرٹیفکیٹ کافی ہے۔ پھر ایک کذاب کے خدا بن جانے میں کیا مشکلات ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ عیسائی صاحبوں نے ان عبارتوں کو کیوں پیش کر دیا۔ ان کو تو مخفی رکھنا چاہیے تھا۔ اب تو وہی بات ہوئی کہ تیر خویش بر پائے خویش۔ دوسرا جواب مجیب صاحب نے یہ دیا ہے کہ یسوع مسیح مردوں کو زندہ کرتا اور جذامیوں وغیرہ کو صاف کرتا تھا۔ لیکن افسوس کہ صاحب راقم نے اس جواب کے وقت میرے اشتہار کے اس فقرہ کو نہیں پڑھا کہ قوت ثبوت میں موازنہ کیا جائے گا۔ افسوس انہوں نے یہ کیسی جلدی کی کہ قصوں اور کہانیوں کو پیش کر دیا۔ صاحبو! مسیح کامردوں کو زندہ کرنا وغیرہ امور یہ سب ایسے قصے ہیں کہ جن کو خود یورپ کے محقق بنظر استہزاء دیکھتے ہیں ۔ ان کا نام ثبوت رکھنا اگر سادہ لوحی نہ ہو تو اور کیا ہے۔ اور اگر ثبوت اسی کو