مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 6
مجموعه اشتہارات ۶ جلد دوم اگر وہ پانچ ہزار روپیہ جمع کرانے کے بعد مقابلہ سے گریز کر جائے یا اپنی لاف و گزاف کو انجام تک پہنچا نہ سکے تو وہ تمام حرجہ ادا کرے جو ایک تجارتی روپیہ کے لئے کسی مدت تک بند رہنے کی حالت میں ضروری الوقوع ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى عبد الحق غزنوی کے مباہلہ کا بقیہ عبد الحق غزنوی نے اپنے بیہودہ اشتہار میں مباہلہ میں فتح یاب ہونے کا بہت سوچ فکر کے بعد یہ حیلہ نکالا تھا کہ بھائی کے مرنے سے اس کی بیوی میرے قبضہ میں آئے اور یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ آئندہ لڑکا پیدا ہونے کی امید ہے۔ اس کے جواب میں ہم نے اپنے رسالہ انوار الاسلام میں لکھ دیا تھا کہ بھائی کا مرنا اور اس کی ضعیفہ بیوہ کو نکاح میں لانا کوئی مراد یابی کی بات نہیں بلکہ اس کا ذکر کرنا ہی جائے شرم ہے وہ ضعیفہ جو اپنی جوانی کا اکثر حصہ کھا چکی تھی اُس کو نکاح میں لا کر تو ناحق عبد الحق نے روٹی کا خرچ اپنے گلے ڈال لیا۔ اب معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے بے ہودہ نکاح سے دکھ خریدا یا خوشی ہوئی۔ باقی رہا لڑکا پیدا ہونا اس کا عبدالحق نے اب تک کوئی اشتہار نہیں دیا شاید وہ پیٹ کے اندر ہی اندر گم ہو گیا۔ یا بموجب آیت فرقانی لڑکی پیدا ہوئی اور منہ کالا ہو گیا۔ لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے عبد الحق کی یا وہ گوئی کے جواب میں بشارت دی تھی کہ تجھے ایک لڑکا دیا جائے گا۔ جیسا کہ ہم اسی رسالہ انوار الاسلام میں اس بشارت کو شائع بھی کر چکے سو الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْمِنَّةِ کہ اس الہام کے مطابق ۲۷ ذی قعد ۱۳۱۲ھ میں مطابق ۲۴ رمئی ۱۸۹۵ ء میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شریف احمد رکھا گیا۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى را تم خاکسار غلام احمد عفی عنہ مطبوعه ۱۸۹۵ء ( یہ اشتہار ضیاء الحق مطبوعہ ۱۸۹۵ء کے ٹائیٹل صفحہ اندرونی و آخری صفحوں پر ہے ) روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۵۰ اور صفحہ ۳۲۰ تا ۳۲۳)