مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 162

مجموعه اشتہارات ۱۶۲ جلد دوم نے ایسی کمر باندھی کہ گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں۔ ہر ایک نے مجھے گالی دینا اجر عظیم کا موجب سمجھا اور میرے پر لعنت بھیجنا اسلام کا طریق قرار دیا۔ پر ان سب تلخیوں اور دکھوں کے وقت خدا میرے ساتھ تھا۔ ہاں وہی تھا جو ہر ایک وقت مجھ کو تسلی اور اطمینان دیتا رہا۔ کیا ایک کیڑا ایک جہان نارہا۔ کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے۔ کیا ایک ذرہ تمام دنیا کا مقابلہ کرے گا ۔ کیا ایک دروغ گو کی ناپاک روح یہ استقامت رکھتی ہے۔ کیا ایک ناچیز مفتری کو یہ طاقتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ سو یقیناً سمجھو کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑرہے ہو۔ کیا تم خوشبو اور بد بو میں فرق نہیں کر سکتے ۔ کیا تم سچائی کی شوکت کو نہیں دیکھتے۔ بہتر تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے روتے اور ایک ترساں اور ہراساں دل کے ساتھ اس سے میری نسبت ہدایت طلب کرتے اور پھر یقین کی پیروی کرتے نہ شک اور وہم کی۔ سواب اٹھو اور مباہلہ کیلئے طیار ہو جاؤ ۔ تم سن چکے ہو کہ میرا دعوی دو باتوں پر مبنی تھا۔ اوّل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر۔ دوسرے الہامات الہیہ پر۔ سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا توڑ کر پھینک دے۔ اب میرے بناء دعوئی کا دوسراشق باقی رہا۔ سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رود نہیں کر سکتا کہ اب اس دوسری بناء کی تصفیہ کے لیے مجھ سے مباہلہ کر لو۔ اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گا اور دعا کروں گا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے۔ یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آجائے۔ تا میری ذلت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا