مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 143
مجموعه اشتہارات گا اور مدار نجات صلیب پر رکھے گا۔ ۱۴۳ جلد دوم یہ بات عارفوں کے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے کہ اس جگہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا تظاہر ہو گیا ہے جس سے تمام حقیقت اس متنازعہ فیہ مسئلہ کی کھل گئی۔ کیونکہ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجال اکبر پادریوں کو ٹھہرایا اور ان کے دجل کو ایسا عظیم الشان دجل قرار دیا کہ قریب ہے جو اس سے زمین و آسمان ٹلر سمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ۔ اور حدیث نے مسیح موعود کی حقیقی علامت یہ بتہ یہ بتائی کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہوگا۔ اور وہ دجال اکبر کو قتل کرے گا۔ ہمارے نادان مولوی نہیں سوچتے کہ جبکہ مسیح موعود کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دجال اکبر ہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ بڑا دجل اور بڑا فتنہ جس سے قریب ہے کہ نظام اس عالم کا درہم برہم ہو جائے اور خاتمہ اس دنیا کا ہو جائے وہ پادریوں کا فتنہ ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ پادریوں کے سوا اور کوئی دجال اکبر نہیں ہے اور جو شخص اب اس فتنہ کے ظہور کے بعد اور کی انتظار کرے وہ قرآن کا مکذب ہے۔ اور نیز جبکہ لغت کی رو سے بھی دجال ایک گروہ کا نام ہے جو اپنے دجل سے زمین کو پلید کرتا ہے۔ اور حدیث کی رو سے نشان دجال اکبر کا حمایت صلیب ٹھہرا تو باوجود اس کھلی کھلی تحقیق کے وہ شخص نہایت درجہ کور باطن ہے کہ جواب بھی حال کے پادریوں کو دجال اکبر نہیں سمجھتا۔ ایک اور بات ہے جس سے ہمارے نادان مولوی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اس بات کے خود قائل ہیں کہ دجال معہود کا بجز حرمین کے تمام زمین پر تسلط ہو جائے گا۔ سو اگر دجال سے مراد کوئی اور رکھا جائے تو یہ حدیث قرآن کی صریح پیشگوئی سے مخالف ہو جائے گی۔ کیونکہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ قیامت تک زمین پر غلبہ اور تسلط دو قوموں میں سے ایک قوم کا ہوتا رہے گا۔ یا اہلِ اسلام کا یا نصاری کا۔ پس قرآن کے رو سے ایسے دجال کو جو اپنی خدائی کا دعوٹی لے کر آئے گا۔ زمین پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں اور قرآن اس کے وجود کو روکتا ہے۔ ہاں استعارہ کے طور پر نصاری کا دعوئی خدائی ثابت ہے کیونکہ چاہتے ہیں کہ گلوں کے زور سے تمام زمین و آسمان کو اپنے قابو میں کر لیں یہاں تک کہ مینہ