مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 93
مجموعه اشتہارات ۹۳ جلد دوم کوئی بھلا مانس آتھم کو جا کر نہیں پوچھتا کہ تم اس ضروری قسم سے کیوں گریز کر گئے اور کیوں عیسائی مذہب پر سیاہی مل دی۔ اور کیوں ایسی قسم نہ کھائی جو عقلاً وانصافاً و قانوناً نہایت ضروری تھی اور تم پر واجب ہو چکی تھی۔ اے لوگو اس قدر غلو سے باز آجاؤ اور ڈرو کیونکہ وہ ہستی حق ہے جس کو تم بھولتے ہو اور وہ پاک ذات سچ ہے جس کی اس تعصب میں تمہیں کچھ بھی پروا نہیں ۔ اُس سے ڈرو۔ کیونکہ کوئی بیہودہ بات نہیں جس کا حساب نہیں لیا جائے گا۔ اور مجھے اسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آتھم اب بھی قسم کھانا چاہے اور انہیں الفاظ کے ساتھ جو میں پیش کرتا ہوں ایک مجمع میں میرے روبرو تین مرتبہ قسم کھاوے اور ہم آمین کہیں تو میں اسی وقت چار ہزار روپیہ اس کو دوں گا۔ اگر تاریخ قسم سے ایک سال تک زندہ سالم رہا تو وہ اس کا روپیہ ہوگا۔ اور پھر اس کے بعد یہ تمام قو میں مجھ کو جو سزا چاہیں دیں۔ اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کریں تو میں عذر نہیں کروں گا۔ اور اگر دنیا کی سزاؤں میں سے مجھ کو وہ سزا دیں جو سخت تر سزا ہے تو میں انکار نہیں کروں گا اور خود میرے لیے اس سے زیادہ کوئی رسوائی نہیں ہوگی کہ میں ان کی قسم کے بعد جس کی میرے ہی الہام پر بنا ہے جُھوٹا نکلوں ۔ پس اے یا وہ گو لوگو! بد ذاتی کے منصوبوں کو چھوڑو اور کسی طرح آتھم صاحب کو اس بات پر راضی کرو تا راستبازوں کے حق میں وہ فیصلہ ہو جائے جو ہمیشہ سنت اللہ کے موافق ہوا کرتا ہے اور اگر صرف گالیاں دینا مطلب ہے تو ہم تمہارا منہ پکڑ نہیں سکتے اور نہ کچھ اس سے غرض ہے کیونکہ قدیم سے یہی سنت اللہ ہے کہ ہمیشہ نابکار اور بدسرشت سچوں کو گالیاں دیا کرتے ہیں اور ہر یک طرف سے دُکھ نوٹ نمبرا۔ آتھم نے قسم کھا کر اس قحبہ کو ڈور نہ کیا جو ڈرتے رہنے کے اقرار سے اس کی نسبت جم گیا تھا۔ بلکہ مقسم کھانے سے سخت گریز کر کے ایک اور شبہ اپنے پر قائم کر لیا۔ منہ نوٹ نمبر ۲۔ شیخ بٹالوی محمد حسین نے مولوی نواب صدیق حسن خان کو مجد دصدی چہار دہم ٹھہرایا تھا۔ سو وہ صدی کے آتے ہی اس جہان سے گزر گئے اور بعض ملاؤں نے مولوی عبدالحی لکھنوی کو اس صدی کا مجد دخیال کیا تھا۔ انہوں نے بھی پہلے فوت ہو کر اپنے ایسے دوستوں کو شرمندہ کیا ۔ منہ