مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 86
مجموعه اشتہارات ۸۶ جلد دوم بلکہ ر وہ کئی ہزار اہلِ علم اور عاقل آدمی ہیں جن میں بہت سے معزز مولوی صاحبان بھی داخل ہیں۔ اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ تمام مسلمان آتھم صاحب کی فتح پر یقین رکھتے ہیں اور پیشگوئی کو جھوٹی جانتے ہیں۔ کیونکہ ہماری نظر میں ہزار ہا ایسے آدمی موجود ہیں کہ وہ سچے دل سے سمجھتے ہیں کہ پیشگوئی اپنے دو پہلوؤں میں سے ایک پہلو پر پوری ہوگئی ۔ سو چونکہ فتح مسیح صاحب نے اپنی قدیم عادت کی وجہ سے یہ ایک صریح جھوٹ بولا ہے جیسا کہ بٹالہ میں ایک مرتبہ اپنے ملہم ہونے کا ایک جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا۔ اس لیے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ یہ مکروہ جھوٹ ان کا پبلک پر کھول دیا جائے۔ سو ہم اشتہار دیتے ہیں کہ فتح مسیح صاحب اگر سچے ہیں تو بذریعہ کسی چھپی ہوئی تحریر کے ہم کو اطلاع دیں کہ کس قدر ایسے آدمیوں کے دستخط وہ چاہتے ہیں جو اس بات کا اقرار کرتے : تے ہوں جو حقیقت میں پیشگوئی پوری ہوگئی۔ اور پادری صاحبوں کو شکست آئی۔ اگر ہم پندرہ سے سو گنا زیادہ پیش کر دیں تو کیا وہ آتھم صاحب سے قسم دلائیں گے یا نہیں۔ بیشک ان کی عیسائی ایمانداری کا اب یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بات اور دعوئی پر قائم رہ کر بلا توقف ہمیں اطلاع دیں کہ کسی عدد کے پیش کرنے پر وہ آتھم صاحب سے قسم دلاویں گے۔ کیا ہزار یا دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار آدمی کے دستخط پر ان کا پندرہ کا دعوی باطل ہو جائے گا یا نہیں ۔ ہم ہر طرح اس بات کا تصفیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پادری فتح مسیح صاحب کو چاہیے کہ جلد اطلاع دیں کہ پندرہ سے زیادہ ان کی اصطلاح میں کس قدر جماعت کا نام ہے۔ اور ان کے نزدیک جس قدر کا نام کلیسیا ہے۔ وہ جماعت کسی عدد تک ہے تا اسی قدر جماعت کے دستخط کراکر ان کے پاس بھیجے جائیں۔ اور ان کے ذمہ ہو گا کہ ایسے محضر نامہ کے پہنچنے کے بعد فی الفور آتھم صاحب کو میدان میں لاویں۔ اور اگر وہ اشتہار کے شائع ہونے کی تاریخ سے بیس دن تک ایسی درخواست نہ بھیجیں تو ایک دوسرے اشتہار سے ان کی دروغگو ئی شائع کی جائے گی ۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ اگر چہ دس ہزار مسلمان کا بھی یہ تحریری بیان پیش کیا جائے کہ آتھم صاحب کے متعلق پیشگوئی سچی نکلی ہے ، مگر تب بھی آتھم صاحب ہر گز فتم نہیں کھائیں گے۔ اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے ان کو ذبح بھی کر