مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 67

مجموعه اشتہارات ۶۷ جلد اول کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں ہم اسی کو عطیہ عظمی سمجھیں گے اور احسان عظیم خیال کریں گے ورنہ ہمارا بڑا حرج ہوگا اور گم شدہ حصوں کو دوبارہ چھپوانا پڑے گا کیونکہ یہ پرچہ اخبار نہیں کہ جس کے ضائع ہونے میں کچھ مضائقہ نہ ہو ہر ایک حصہ کتاب کا ایک ایسا ضروری ہے کہ جس کے تلف ہونے سے ساری کتاب ناقص رہ جاتی ہے برائے خدا ہمارے معزز اخوان سرد مہری اور لاپروائی کو کام میں نہ لائیں اور دنیوی استغناء کو دین میں استعمال نہ کریں اور ہماری اس مشکل کو سوچ لیں کہ اگر ہمارے پاس اجزا کتاب کے ہی نہیں ہوں گے تو ہم خریداروں کو کیا دیں گے اور ان سے پیشگی روپیہ کہ جس پر چھپنا کتاب کا موقوف ہے کیونکر لیں گے۔ کام ابتر پڑ جائے گا اور دین کے امر میں جو سب کا مشترک ہے ناحق کی دقت پیش آ جائے گی۔ امیدوار بود آدمی بخیر کسان مرا بخیر تو امید نیست بد مرساں ایک اور بڑی تکلیف ہے جو بعض نافہم لوگوں کی زبان سے ہم کو پہنچ رہی ہے اور وہ یہ ہے جو بعض صاحب کہ جن کی رائے باعث کم تو جہی کے دینی معاملات میں صحیح نہیں ہے وہ اس حقیقت حال پر اطلاع پا کر جو کتاب براہین احمدیہ کی تیاری پر نو ہزار روپیہ خرچ آتا ہے بجائے اس کے جو دلی غمخواری سے کسی نوع کی اعانت کی طرف متوجہ ہوتے اور جو زیر باریاں بوجہ کی قیمت کتاب و کثرت مصارف طبع کے عائد حال ہیں ان کے جبر نقصان کے لئے کچھ اللہ فی اللہ ہمت دکھلاتے منافقانہ باتیں کرنے سے ہمارے کام میں خلل انداز ہو رہے ہیں اور لوگوں کو یہ وعظ سناتے ہیں جو کیا پہلی کتا بیں کچھ تھوڑی ہیں جواب اس کی حاجت ہے اگر چہ ہم کو ان لوگوں کے اعتراضوں پر کچھ نظر اور خیال نہیں اور ہم جانتے ہیں جو دنیا پرستوں کی ہریک بات میں کوئی خاص غرض ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ اسی طرح شرعی فرائض کو اپنے سر پر سے ٹالتے رہتے ہیں کہ تاکسی دینی کار روائی کی ضرورت کو تسلیم کر کے کوئی کوڑی ہاتھ سے نہ چھوڑنی پڑے لیکن چونکہ وہ ہماری اس جہد بلیغ کی تحقیر کر کے لوگوں کو اس کے فوائد عظیمہ لا ترجمہ۔ انسان کو لوگوں سے بھلائی کی امید ہوتی ہے، مجھے تجھ سے بھلائی کی امید نہیں میرے ساتھ برائی بھی تو نہ نہ کر۔