مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 64

مجموعه اشتہارات ۶۴ جلد اول اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی یہ رعایت اسباب ظاہری مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ لے کہنا پڑا خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں یہ تصدیق اپنے قانون قدرت تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى لَے کا حکم فرمایا۔ مگر افسوس جو مسلمانوں میں سے بہتوں نے اس اصول متبرک کو فراموش کر دیا ہے اور ایسی اصل عظیم کو کہ جس پر ترقی اور اقبال دین کا سارا مدار تھا بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں اور دوسری قو میں کہ جن کی الہامی کتابوں میں اس بارے میں کچھ تاکید بھی نہیں تھی وہ اپنی دلی تدبیر سے اپنے دین کی اشاعت کے شوق سے مضمون تَعَاوَنُوا پر عمل کرتی جاتی ہیں اور خیالات مذہبی ان کے باعث قومی تعاون کے ن کے باعث دومی تعاون کے روز بروز زیادہ سے زیادہ پھیلتے چلے جاتے ہیں آج کل عیسائیوں کی قوم کو ہی دیکھو جو اپنے دین کے پھیلانے میں کس قدر دلی جوش رکھتے ہیں اور کیا کچھ محنت اور جانفشانی کر رہے ہیں لاکھ ہا روپیہ بلکہ کروڑ ہا ان کا صرف تالیفات جدیدہ کے چھپوانے اور شائع کرنے کی غرض سے جمع رہتا ہے۔ ایک متوسط دولتمند یورپ یا امریکہ کا اشاعت تعلیم انجیل کے لئے اس قدر رو پید اپنی گرہ سے خرچ کر دیتا ہے جو اہل اسلام کے اعلیٰ سے اعلیٰ دولت مند مِنْ حَيْثُ الْمَجْمُوع بھی اس کی برابری نہیں کر سکتے یوں تو مسلمانوں کا اس ملک ہندوستان میں ایک بڑا گر وہ ہے اور بعض متمول اور صاحب توفیق بھی ہیں مگر امور خیر کی بجا آوری میں (باستثنائے ایک جماعت قلیل امراء اور وزراء اور عہدہ داروں کے ) اکثر لوگ نہایت درجہ کے پست ہمت اور منقبض الخاطر اور تنگ دل ہیں کہ جن کے خیالات محض نفسانی خواہشوں میں محدود ہیں اور جن کے دماغ استغنا کے مواد ردیہ سے متعفن ہو رہے ہیں یہ لوگ دین اور ضروریات دین کو تو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے۔ ہاں ننگ و نام کے موقعہ پر سارا گھر بار لٹانے کو بھی حاضر ہیں ۔ خالصاً دین کے لئے عالی ہمت مسلمان ( جیسے ایک سیدنا و مخدومنا حضرت خلیفه سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیر اعظم پٹیالہ ) اس قدر تھوڑے ہیں کہ جن کو انگلیوں پر بھی شمار کرنے کی حاجت نہیں ۔ ماسوا اس کے بعض لوگ اگر کچھ تھوڑا بہت دین کے معاملہ میں خرچ بھی کرتے ہیں تو ایک رسم کے الصف: ۱۵ ۲ المائدة: ۳