مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 46
مجموعه اشتہارات ۴۶ جلد اول 5 عست تک سب سے زیادہ حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیر اعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ سے اعانت ظہور میں آئی یعنی حضرت ممدوح نے اپنی عالی ہمتی اور کمال محبت دینی سے مبلغ دوسو پچاس روپیہ اپنی جیب خاص سے اور چھتر رو پیدا چھتر روپیہ اپنے اور دوستوں سے ف سے فراہم کر کے تین سو پچیس روپیہ بوجہ خریداری کتابوں کے عطا فرمایا۔ عالی جناب سیدنا وزیر صاحب ممدوح الاوصاف نے اپنے والا نامہ میں یہ بھی وعدہ فرمایا ہے کہ تا اختتام کتاب فراہمی چندہ اور بہم رسانی خریداروں میں اور بھی سعی فرماتے رہیں گے۔ اور نیز اسی طرح حضرت فخر الدوله نواب مرزا محمد علاؤ الدین احمد خان بہادر فرمانروائے ریاست لوہارو نے مبلغ چالیس روپیہ کہ جن میں سے بیس روپیہ محض بطور اعانت کتاب کے ہیں مرحمت فرمائے اور آئندہ اس بارہ میں مدد کرنے کا اور بھی وعدہ فرمایا اور علیٰ ہذا القیاس توجہ خاص جناب نواب شاہجہان بیگم صاحبہ کرون آف انڈیا رئیس دلاور اعظم طبقہ اعلائے ستارہ ہندو رئیسہ بھوپال دام اقبالہا کی بھی قابل بے انتہا شکر گزاری کے ہے کہ جنہوں نے عادات فاضلہ ہمدردی مخلوق اللہ کے تقاضا سے خریداری کتب کا وعدہ فرمایا اور مجھ کو بہت توقع ہے کہ حضرت مفتخر اليها تائید اس کام بزرگ میں کہ جس میں صداقت اور شان و شوکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہر ہوتی ہے اور دلائل حقیت اسلام کی مثل روز روشن کے جلوہ گر ہوتے ہیں اور بندگانِ الہی کو غایت درجہ کا فائدہ پہنچتا ہے کامل توجہ فرماویں گی۔ اب میں اس جگہ بخدمت عالی دیگر امراء اور اکابر کے بھی کہ جن کو اب تک اس کتاب سے کچھ اطلاع نہیں اس قدر گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اگر اشاعت اس کتاب کی غرض سے کچھ مدد فرماویں گے تو ان کی ادنی توجہ سے پھیلنا اور شائع ہونا اس کتاب کا جو دلی مقصد اور قلبی تمنا ہے نہایت آسانی سے ظہور میں آجائے گا اے بزرگان و چراغان اسلام ! آپ سب صاحب خوب جانتے ہوں گے کہ آج کل اشاعت دلائل حقیت اسلام کی نہایت ضرورت ہے اور تعلیم دینا اور سکھلا نا براہین ثبوت اس دین متین کا اپنی اولاد اور عزیزوں کو ایسا فرض اور واجب ہو گیا ہے اور ایسا واضح الوجوب ہے کہ جس میں کسی قدر ایما کی بھی حاجت نہیں جس قدر ان دنوں میں لوگوں کے عقائد میں برہمی درہمی