مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 561
مجموعه اشتہارات ۵۶۱ جلد اول اگر کافر ہے تو سچ مچ مسلمان ہو جائے اور اگر ایک جرم کا مرتکب ہے تو سچ مچ اس جرم سے دست بردار ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے ظِلِ امان میں آ جاتا ہے۔ پھر اگر کبھی مرتا بھی ہے تو عذاب سے نہیں بلکہ موت مقدر کی ضرورت کے باعث سے مرتا ہے، لیکن اگر سرکشی کو اور ان تمام امور کو جو اس کی سرکشی پر شاہد اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کے مخالف ہوں چھوڑنا نہ چاہیے اور سچی اطاعت سے دور رہے تو پھر اس عذاب سے بچ نہیں سکتا جو اس کے لیے مقدر ہے یہ تعلیم قرآن اور خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں کی ہے اور اسی کے نیچے وہ تمام الہامات ہیں جو اولیاء اللہ کو ہوتے ہیں اور کوئی الہام اس سنت اللہ کے مخالف نہیں ہوتا۔ اور اگر چہ بظاہر مخالف ہو تو اس کے صحیح وہی ہوں گے جو اس سنت اللہ کے موافق ہوں ۔ ۔ پس یہی ربانی الہامات کی اصل حقیقت اور سچی فلاسفی ہے جس کے ماننے کے بغیر انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا لیکن دنیا میں بہتیرے ایسے یا وہ گو اور احمق ہیں جو اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے کہ اگر کسی الہام میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میعاد مقرر ہو تو ضرور وہ میعاد اپنے وقت مقررہ پر پوری ہونی چاہیے۔ مگر ایسے لوگ اپنی بیوقوفی اور حماقت کی وجہ سے نہایت ہی قابل رحم ہیں ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ پیشگوئیوں کا خدا تعالیٰ کی کامل صفات اور ربانی کتاب کے موافق ظاہر ہونا ضروری ہے جبکہ وہ نہایت ہی رحیم و کریم و حلیم ہے۔ اور ڈرنے والے کو ایسے طور سے نہیں پکڑتا جیسا کہ سخت دل اور بیباک کو پکڑتا ہے اور سچی توبہ اور صدقہ اور خیرات سے عذاب میں تاخیر ڈال دیتا ہے تو یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اس کے وعدے اور اس کی پیشگوئیاں اس کی صفات کے مخالف نہ ہوں ۔ اور یہ بات تو عام لوگوں کے لیے ہے جو خدا تعالیٰ کی کتابوں کو غور سے نہیں دیکھتے، لیکن جو لوگ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن کریم میں تدبر کر سکتے ہیں اور ان الہی سنتوں سے واقف ہیں جو اُس مقدس کتاب میں درج ہیں۔ وہ ہمارے اس بیان کو خوب سمجھتے ہیں اور ان کی سخت بے ایمانی ہو گی اگر وہ اس کا انکار کریں۔ لیکن چونکہ وہ اس طوفان حسد اور تعصب کے وقت کسی قسم کی بے ایمانی سے نہیں ڈرتے اس لئے ان کی پردہ دری کے لیے ایک اور انتظام کی لے معنی“ کا لفظ کا تب سے اصل اشتہار میں رہ گیا ہے اس لئے ہم نے بھی نہیں لکھا ۔ (المرتب)