مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 549
مجموعه اشتہارات لدما جلد اول لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا۔ وَلَا تَعْجَبُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ انْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ وَ بِعِزَّتِي وَ جَلَالِي إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ كُلَّ مُمَزَّقٍ وَ مَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُورُ ۔ إِنَّا نَكْشِفُ السِرَّ عَنْ سَاقِهِ ۔ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ثُلَّةٌ مِّنَ الأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ۔ وَ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۲ ۔ یہ یا د رکھنا چاہیے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور مہیمن اور پیشرو کے ہے جو قرآن کریم میں وارد ہو چکی ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو توڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک نوشتوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے پھر جبکہ قرآنی تعلیم نے صاف طور پر بتلا دیا کہ ایسار جوع بھی دنیوی عذاب میں تاخیر ڈال دیتا ہے جو محض دل کے ساتھ ہو اور مَعَ ذَالِک ایسا ناقص بھی ہو جو امن کے ایام میں قائم نہ رہے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ آتھم اپنے اس رجوع سے فائدہ نہ اٹھاتا بلکہ اگر یہ شرط الہام میں بھی موجود نہ ہوتی تب بھی اس سنت اللہ سے فائدہ اٹھانا ضروری تھا کیونکہ کوئی الہام ان سنتوں کو باطل نہیں کر سکتا جو قرآن کریم میں آچکی ہیں بلکہ ایسے موقع پر الہام میں شرط مخفی کا اقرار کرنا پڑے گا جیسا کہ اس پر تمام اصفیاء اور اولیاء کا اتفاق ہے۔ (۱۴) اعتراض چودواں ۔ دراصل آتھم صاحب کے حواس قائم نہیں ہیں اور اب تک کچھ دہشت زدہ ہیں اس لئے پادری صاحبان ان کو قسم کھانے پر آمادہ نہیں کر سکتے اس اندیشہ سے کہ شاید قسم کھانے کے وقت اسلام کا اقرار ہی نہ کر لیں ۔ الجواب۔ اگر آتھم صاحب کے حواس میں خلل ہے تو سوال یہ ہے کہ آیا یہ خلل پیشگوئی کے پہلے بھی موجود تھا یا پیشگوئی کے بعد ہی ظہور میں آیا اگر پیشگوئی کے پہلے موجود تھا تو ایسا خیال بدیہی البطلان ہے کیونکہ وہ اس حالت میں بحث کے لئے کیونکر اور کیوں منتخب کئے گئے اور طرفہ تر یہ کہ خود ڈاکٹر نے ان کو اس بحث کے لئے منتخب کیا تھا تو بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ڈاکٹر مارٹن کلارک کے حواس میں بھی خلل تھا اور اگر یہ خلل پیشگوئی کے بعد میں پیدا ہوا تو پھر وہ پیشگوئی کی تاثیرات میں سے ایک تاثیر بھی جائے گی اور عذاب مقدر کا ایک جز و متصور ہوگا اور اس صورت میں