مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 539
مجموعه اشتہارات ۵۳۹ جلد اول عظمت کو خیال میں لاکر ایک سچا خوف پیشگوئی کے سننے کے وقت میں بال بال میں پھر جاتا ہے مگر چونکہ شقی ہے اس لئے یہ خوف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک نزول عذاب کا اس کو اندیشہ ہوتا ہے اس کی مثالیں قرآن کریم اور بائبل میں بکثرت ہیں جن کو ہم نے رسالہ انوار الاسلام میں بتفصیل لکھ دیا ہے۔ غرض منافقانہ رجوع در حقیقت رجوع نہیں ہے لیکن جو خوف کے وقت میں ایک شقی کے دل میں واقعی طور پر ایک ہر اس اور اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے اس کو خدا تعالیٰ نے رجوع میں ہی داخل رکھا ہے اور سنت اللہ نے ایسے رجوع کو دنیوی عذاب میں تاخیر پڑنے کا موجب ٹھہرایا ہے گو اخروی عذاب ایسے رجوع سے ٹل نہیں سکتا مگر دنیوی عذاب ہمیشہ ٹلتا رہا ہے اور دوسرے وقت پر پڑتا رہا ہے۔ قرآن کو غور سے دیکھو اور جہالت کی باتیں مت کرو اور یاد رہے کہ آیت لَنْ يُؤَخِّرَ اللهُ نَفْسًا کو اس مقام سے کچھ تعلق نہیں اس آیت کا تو مدعا یہ ہے کہ جب تقدیر مبرم آ جاتی ہے تو ٹل نہیں سکتی مگر اس جگہ بحث تقدیر معلق میں ہے جو مشروط بشرائط ہے جبکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے کہ میں استغفار اور تضرع اور غلبہ ء خوف کے وقت میں عذاب کو کفار کے سر پر سے ٹال دیتا ہوں اور ٹالتا رہا ہوں پس اس سے بڑھ کر سچا گواہ اور کون ہے جس کی شہادت قبول کی جاوے۔ - (۷) ساتواں اعتراض ۔ یہ ہے اگر رجوع کے بعد عذاب ٹل سکتا ہے تو اب بھی اگر آتھم قسم کھا کر پھر اندر ہی اندر رجوع کرلے تو چاہیے کہ عذاب ٹل جائے تو اس صورت میں ایک شریر انسان کے لئے بڑی گنجائش ہے اور ربانی پیشگوئیوں کا بالکل اعتبار اٹھ جائے گا۔ الجواب۔ قسم کھانے کے بعد خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ فیصلہ قطعی کرے سو قسم کے بعد ایسے مگار کا پوشیدہ رجوع ہرگز قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس میں ایک دنیا کی تباہی ہے اور قسم فیصلہ کے لئے ہے اور جب فیصلہ نہ ہوا اور کوئی مکار پوشیدہ رجوع کر کے حق پر پردہ ڈال سکا تو دنیا میں گمراہی پھیل جائے گی اس لئے قسم کے بعد خدا تعالیٰ کا عزما یہ ارادہ ہوتا ہے کہ حق کو باطل سے علیحدہ کر دے تا امر