مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 536
مجموعه اشتہارات ۵۳۶ جلد اول ناظرین ! کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ میدان میں قسم کھانے کے لئے آجائیں گے ہرگز نہیں آئیں گے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ کبھی جھوٹے بھی ایسی بہادری دکھلاتے ہیں جو ایمانی قوت پر مبنی ہوان کے تو ڈر ڈر کے دست نکلتے رہے غشی پر غشی طاری ہوتی رہی سو خدا نے جو سزا دینے میں دھیما اور رحم میں سب سے بڑھ کر ہے اپنی الہامی شرط کے موافق ان سے معاملہ کیا اب چڑیا اپنے پنجرہ سے نکلی ہوئی پھر کیونکر اسی پنجرہ میں داخل ہو جائے ۔ پیارے ناظرین! کیا تم ہماری تحریروں کو غور سے نہیں دیکھتے کیا سچائی کی شوکت تمہیں ان کے اندر معلوم نہیں ہوتی کیا نور فراست تمہارا گواہی نہیں دیتا کہ یہ ایمانی قوت اور شجاعت اور یہ دیتا استقلال درونگو سے کبھی ظاہر نہیں ہو سکتا کیا میں پاگل ہو گیا یا میں دیوانہ ہوں کہ اگر قطعی طور پر مجھے علم نہیں دیا گیا تو یوں ہی تین ہزار روپیہ برباد کرنے کو تیار ہو گیا ہوں۔ ذرہ سوچو اور اپنے صحیح وجدان سے کام لو اور یہ کہنا کہ کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کا اثر عبد اللہ آتھم پر ہوا ہو کس قد رصداقت کا خون کرنا ہے اگر اثر نہیں تھا تو کیوں آتھم صاحب چوروں کی طرح بھاگتے پھرے اور کیوں اپنی سچائی کی بنا پر اب قسم کھانے کے لئے میدان میں نہیں آتے خط پر خط رجسٹری کرا کر بھیجے گئے وہ مردے کی طرح بولتے نہیں۔ (۴) چوتھا اعتراض ۔ یہ ہے کہ ایک صاحب اپنے اشتہار میں مجھ کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ تم نے مباحثہ میں آتھم صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تم عمداً حق کو چھپا رہے ہو پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ اس وقت بھی بقول تمہارے اسلام کو حق جانتے تھے پس پیشگوئی کی میعاد میں کون سی نئی بات ان سے ظہور میں آئی۔ الجواب۔ جاننا چاہیے کہ امن کی حالت میں اپنے کفر کی حمایت کر کے حق کو چھپانا اور اپنے مخالفانہ دلائل کو کمزور سمجھ کر پھر بھی بحث کے وقت انہیں کو فروغ دینا اور اسلامی دلائل کو بہت قوی پا کر پھر بھی ان سے عمد احق پوشی کی راہ سے منہ پھیرنا یہ اور بات ہے لیکن خوف کے دنوں میں در حقیقت اسلامی صداقت کا خوف اپنے دل پر ڈال لینا یہاں تک کہ شدت خوف سے دیوانہ سا ہو جانا یہ اور چیز