مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 508 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 508

مجموعه اشتہارات ۵۰۸ جلد اول پہلے کسی جگہ جمع کرالیں اور اگر وہ ایسی درخواست لے نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ وہ کا ذب ہیں اور غلو کے وقت اپنی سزا پائیں گے۔ ہمیں صاف طور پر الہاماً معلوم ہو گیا ہے کہ اس وقت تک عذاب موت طور پر الہاما ہو ملنے کا یہی باعث ہے کہ عبداللہ آتھم نے حق کی عظمت کو اپنی خوف ناک حالت کی وجہ سے قبول کر کے ان لوگوں سے کسی درجہ پر مشابہت پیدا کر لی ہے جو حق کی طرف رجوع کرتے ہیں اس لئے ضرور تھا کہ ان کو کسی قدر اس شرط کا فائدہ ملتا اور اس امر کو وہ لوگ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جو ان کے حالات پر غور کریں اور ان کی تمام بے قراریوں کو ایک جگہ میزان دے کر دیکھیں کہ کہاں تک پہنچ گئی تھیں کیا وہ ہاویہ تھا یا کچھ اور تھا اور اگر کوئی ناحق انکار کرے تو اس کے سمجھانے کے لئے وہ قطعی فیصلہ ہے جو میں نے لکھ دیا ہے تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد ۔ ہم اپنے مخالفین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہی سچ ہے ہاں یہی سچ ہے۔ اور ہم پھر مکر رلکھتے ہیں کہ ضرور مسٹر عبد اللہ آتھم نے کسی قدر ہاویہ کی سزا بھگت لی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ قطرب اور مانیا کے مقدمات بھی ان کے دماغ کو نصیب ہو گئے ہیں جن کی طرف الہام الہی کا ہم اشارہ پاتے ہیں اور جس کے نتائج عنقریب کھلیں گے کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتے پس اے حق کے طالبو یقیناً سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیشگوئی پوری ہو گئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی۔ ہاں اگر مسٹر عبداللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے جگہ جگہ بھٹکتا نہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا بلکہ اپنی معمولی خوشی اور استقلال میں ان تمام دنوں کو گذار تا تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہاویہ میں گرنے سے دور رہا مگر اب تو اس کی یہ مثال ہوئی که قیامت دیده ام پیش از قیامت اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے اپنی تمام زندگی میں ان کی نظیر نہیں دیکھی تھی ۔ پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں در حقیقت ہاویہ میں رہا اگر تم ایک طرف ہماری پیشگوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اس کے ان مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بے شک ہاویہ میں گرا ضرور گرا اور اس کے دل لے نوٹ ۔ درخواست کے لیے روز اشاعت سے یعنی بذریعہ اشتہار پہنچنے کے بعد ایک ہفتہ کی میعاد ہے۔