مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 480
مجموعه اشتہارات ۴۸۰ جلد اول صرف اپنی مہربان گورنمنٹ کی خدمت میں فریاد کرتے ہیں اور ملتمس ہیں کہ آیندہ مولوی کے نام سے ان نادان دشمنوں کو روک دیا جائے اور قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کی نکتہ چینی سے سخت ممانعت فرمائی جاوے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ا بقیہ حاشیہ۔ ذریعہ سے ہم کومل گئی جواب تک موجود ہے۔ یہ وہی مخفی تحریرات تھیں جن کی وجہ سے پادری عمادالدین نے شیخ مذکور کو اپنی کتاب توزین الاقوال میں قابل تحسین لکھا ہے اور ہمارے نبی صلعم کو گالیاں نکالیں اور شیخ کی تعریف کی ہے۔ سو ایسا اندیشہ اس رسالہ کے نکلنے پر دل میں لانا بالکل بے بنیا دو ہم اور خیال باطل ہے کیونکہ شیخ مذکور تو آپ ہی علم اور ادب اور علوم عربیہ سے تہی دست اور بے نصیب اور صرف ایک اُردونو لیس منشی ہے۔ پھر پادریوں کی کیا مدد کرے گا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اگر اس وقت بھی بس چل سکے تو عیسائیوں کو مدد دینے میں کبھی فرق نہ کرے۔ مگر اندھا اندھے کو کیا راہ دکھائے گا۔ ہاں شاید اتنی مدد کرے بلکہ ضرور کرے گا کہ جل بھن کر اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ دے گا کہ یہ رسالہ کچھ نہیں کچھ نہیں ۔ غلط ہے غلط ہے مگر شریر اور نامنصف اور ظالم آدمی کی صرف زبان کی بے دلیل بکواس کو کون سنتا ہے اور ایسی بیہودہ باتوں کا ہماری طرف سے تو دندان شکن یہی جواب ہے کہ اگر شیخ مذکور کی نظر میں یہ رسالہ پیچ اور غلط ہے اور وہ اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ بھی اس رسالہ کی نظیر لکھے اور عیسائیوں کی طرح پانچ ہزار روپیہ انعام پاوے لیے ورنہ بجز اس کے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔ شیخ جی جو کچھ آپ کی ذلت ظاہر ہو رہی ہے اور آپ کے در آپ کے علم کی پردہ دری ہوتی جاتی ہے یہ اُس الہام کی تکمیل کی شاخیں ہیں جو لاہور کے ایک بڑے جا ے جلسہ میں آپ کو سنایا گیا تھا کہ اِنِّي مُهِينٌ مَّنْ اَرَادَ اِهَانتگ۔ آپ خدا تعالیٰ سے لڑیں۔ دیکھیں کب تک لڑیں گے۔ آپ نے کہا تھا کہ میں نے ہی اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا۔ اس قدر دو طرفہ جھوٹ سے شیطان کو بھی پیچھے ڈال دیا۔ جس کو خدا اونچا کرے کیا کوئی ہے کہ اس کو گرا سکے؟ آپ اور آپ کی جماعت کیا چیز اور آپ کی دشمنی کیا حقیقت کیا خدا ایسے موذیوں کے تباہ کرنے کے لیے اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں؟!! لوگوں کے بغضوں اور کینوں سے کیا ہوتا ہے جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خُدا ہوتا ہے بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جُدا ہوتا ہے الراقم المشتہر میرزا غلام احمد قادیانی عفی اللہ عنہ ( مطبوعہ مصطفائی پریس لاہور ) ۱۷ مارچ ۱۸۹۴ء یہ اشتہار ۲۶۸۲۰ کے چار صفحوں پر ہے ) تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۷۴ تا ۸۰) A الحاشیہ۔ اور نیز ہمارے الہام کو بھی جھوٹا کرے جس کی فکر میں وہ مر رہا ہے ۔ منہ