مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 470
مجموعه اشتہارات ۴۷۰ جلد اول نور الدین صاحب اور چند اور دوست ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ صرف کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے میرے ساتھ تعلق محبت رکھتے ہیں اور میری باتوں اور نصیحتوں کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی آخرت پر نظر ہے سو وہ انشاء اللہ دونوں جہانوں میں میرے ساتھ ہیں اور میں ان کے ساتھ ہوں ۔ میں اپنے ساتھ ان لوگوں کو کیا سمجھوں جن کے دل میرے ساتھ نہیں جو اس کو نہیں پہچانتے جس کو میں نے پہچانا ہے اور نہ اُس کی عظمتیں اپنے دلوں میں بٹھاتے ہیں اور نہ ٹھٹھوں اور بیرا ہیوں کے وقت خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور کبھی نہیں سوچتے کہ ہم ایک زہر کھا رہے ہیں جس کا بالضرور نتیجہ موت ہے۔ در حقیقت وہ ایسے ہیں جن کو شیطانی راہیں چھوڑ نا منظور ہی نہیں ۔ یادر ہے کہ جو میری راہ پر چلنا نہیں چاہتا وہ مجھ میں سے نہیں اور اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور جو میرے مذہب کو قبول کرنا نہیں چاہتا بلکہ اپنا مذہب پسندیدہ سمجھتا ہے وہ مجھ سے ایسا دور ہے جیسا کہ مغرب مشرق سے ۔ وہ خطا پر ہے کہ سمجھتا ہے کہ میں اس کے ساتھ ہوں میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو اور ان کو روحانیت کے طور سے ایسا ہی روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں ظاہری رؤیت تو حیوانات میں بھی موجود ہے مگر انسان اس وقت سوجا کھا کہلا سکتا ہے جب کہ باطنی رؤیت یعنی نیک و بد کی شناخت کا اس کو حصہ ملے اور پھر نیکی کی طرف جھک جائے سو تم اپنی آنکھوں کے لئے نہ صرف چار پاؤں کی بینائی بلکہ حقیقی بینائی ڈھونڈو اور اپنے دلوں سے دنیا کے بت باہر پھینکو کہ دنیادین کی مخالف ہے جلد مرو گے اور دیکھو گے کہ نجات انہیں کو ہے کہ جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل تھے۔ میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ تو توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سے دنیا اور آخرت میں بیزار ہوں ۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں ۔ کی رفاقت سے بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سے نہیں دیکھتے اور اس کے جلال اور عزت سے نہیں کا چیتے اگر انسان بغیر حقیقی راستبازی کے صرف منہ سے کہے کہ میں مسلمان ہوں یا اگر ایک بھوکا