مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 468
مجموعه اشتہارات ۴۶۸ ہو تو مخلوق میں سے میرے جیسا اس کا کوئی دشمن نہیں اور ا جلد اول اور اخی مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب سَلَّمَهُ تَعَالٰی بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور لہی محبت با ہم پیدا نہیں کی سو میں دیکھتا ہوں که مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد تو بہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنی ادنی خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں اور اگرچہ نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یقیناً دوسو سے زیادہ ہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے۔ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا دے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چار پائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے