مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 451
مجموعه اشتہارات ۴۵۱ جلد اول نذیر صاحب دہلوی اور پیر حیدر شاہ صاحب اور حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی اور میاں عبداللہ ٹونگی اور مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی شاہدین صاحب اور مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس ہائی سکول لد ہانوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی محمد علی واعظ ساکن بو پراں ضلع گوجرانوالہ اور مولوی محمد اسحاق اور سلیمان ساکنان ریاست پٹیالہ اور ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ اور مولوی محمد ملازم مطبع کرم بخش لاہور وغیرہ ۔ اور اگر یہ لوگ باوجود پہنچنے ہمارے رجسٹری شدہ اشتہارات کے حاضر میدان مباہلہ نہ ہوئے تو یہی ایک پختہ دلیل اس بات پر ہوگی کہ وہ در حقیقت اپنے عقیدہ تکفیر میں اپنے تئیں کا ذب اور ظالم اور ناحق پر سمجھتے ہیں۔ بالخصوص سب سے پہلے شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کا فرض ہے کہ میدان میں مباہلہ کے لیے تاریخ مقررہ پر امرت سر میں آجاوے۔ کیونکہ اس نے مباہلہ کے لیے خود درخواست بھی کر دی ہے۔ اور یاد رہے کہ ہم بار بار مباہلہ کرنا نہیں چاہتے کہ مباہلہ کوئی ہنسی کھیل نہیں ۔ ابھی تمام مکفرین کا فیصلہ ہو جانا چاہیئے ۔ پس جو شخص اب ہمارے اشتہار کے شائع ہونے کے بعد گریز کرے گا اور تاریخ مقررہ پر حاضر نہیں ہوگا آئندہ اس کا کوئی حق نہیں رہے گا کہ کچھ پھر کبھی مباہلہ کی درخواست کرے اور پھر ترک حیا میں داخل ہوگا کہ غائبانہ کا فر کہتا رہے۔ اتمام حجت کے لیے رجسٹری کرا کر یہ اشتہار بھیجے جاتے ہیں تا اس کے بعد مکفرین کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اگر بعد اس کے مکفرین نے مباہلہ نہ کیا اور نہ تکفیر سے باز آئے تو ہماری طرف سے اُن پر حجت پوری ہوگئی۔ بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ مباہلہ سے پہلے ہمارا حق ہو گا کہ ہم مکفرین کے سامنے جلسہ عام میں اپنے اسلام کے وجوہات پیش کریں۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المش تهر خاکسار میرزاغلام احمد - ۳۰ رشوال ۱۳۱۰ ھ (مطابق مئی ۱۸۹۳ء) ( مطبوعہ ریاض ہند پر لیس امرتسر ) یہ اشتہار کے ایک صفحہ پر ہے ) یہ اشتہار رسالہ سچائی کا اظہار مطبوعہ باراول ریاض ہند پریس امرتسر کے صفحہ ے اپر بھی طبع ہوا ہے ) (روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۲۸۱)