مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 424
مجموعه اشتہارات ۴۲۴ جلد اول دور و مہجور ہیں اور کیسے صد ہارنگارنگ کے شکوک و شبہات نے اندر ہی اندران کو کھا لیا ہے۔ وہ پہلا ارادہ بہت ہی نا کافی معلوم ہوا۔ اور یہ بات کھل گئی کہ اس کتاب کا تالیف کرنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک ایسے زمانہ کے زیر و زبر کرنے کے لیے یہ ہماری طرف سے ایک حملہ ہے۔ جس زمانہ کے مفاسدان تمام فسادوں کے مجموعہ ہیں۔ جو پہلے اس سے متفرق طور پر وقتاً فوقتاً دنیا میں گزر چکے ہیں بلکہ یقین ہو گیا کہ ان تمام فسادوں کو جمع بھی کیا جائے۔ تو پھر بھی جائے ۔ تو پھر بھی موجودہ زمانہ کے مفاس ں موجودہ زمانہ کے مفاسد ان سے بڑھے ہوئے ہیں اور عقلی اور نقلی ضلالتوں اور نقلی ضلالتوں کا ایک ایسا طوفان چل رہا ہے جس کی نظیر صفحہ دنیا میں نہیں پائی جاتی ۔ اور جو ایسا دلوں کو ہلا رہا ہے کہ قریب ہے کہ بڑے بڑے عقلمند اس سے ٹھو کر کھاویں۔ تب ان آفات کو دیکھ کر یہ قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اس کتاب کی تالیف میں جلدی نہ کی جائے۔ اور ان تمام مفاسد کی بیخ کنی کے لیے فکر اور عقل اور دعا اور تضرع سے پورا پورا کام لیا جائے اور نیز صبر سے اس بات کا انتظار کیا جائے کہ براہین کے چاروں حصوں کے شائع ہونے کے بعد کیا کچھ مخالف لوگ لکھتے ہیں اور اگر چہ معلوم تھا کہ بعض جلد باز لوگ جو خریدار کتاب ہیں۔ وہ طرح طرح کے ظنوں میں مبتلا ہوں گے اور اپنے چند درم کو یاد کر کے مؤلف کو بد دیانتی کی طرف منسوب کریں گے۔ چونکہ دل پر یہی غالب تھا کہ یہ کتاب رطب و یابس کا مجموعہ نہ ہو بلکہ واقعی طور پر حق کی ایسی نصرت ہو کہ اسلام کی روشنی دنیا میں ظاہر ہو جائے۔ اس لیے ایسے جلد بازوں کی کچھ بھی پروانہیں کی گئی۔ اور اس بات کو خدا تعالی بخوبی جانتا ہے اور شاہد ہونے کے لیے وہی کافی ہے کہ اگر پوری تحقیق اور تدقیق کا ارادہ نہ ہوتا تو اس قدر ہا ہے اور شاہا عرصہ میں جو براہین کی تکمیل میں گزر گیا ۔ ایسی ہیں تمیں کتا بیں شائع ہو سکتی تھیں ۔ مگر میری طبیعت اور میرے نور فطرت نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ صرف ظاہری طور پر کتاب کو کامل کر کے دکھلا دیا جائے۔ گو حقیقی اور واقعی کمال اس کو حاصل نہ ہو۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ اگر میں ایسا کرتا اور واقعی حقیقت کو مد نظر نہ رکھتا تو لوگ بلا شبہ خوش ہو جاتے لیکن حقیقی راست بازی کا ہمیشہ یہ تقاضا ہوتا ہے کہ مستعجل لوگوں کی لعنت ملامت کا اندیشہ نہ کر کے واقعی خیر خواہی اور غم خواری کو مد نظر رکھا جائے۔ یہ سینچ ہے کہ اس دس برس کے عرصہ میں کئی خریدار دنیا سے گزر بھی گئے اور کئی لمبے انتظاروں میں پڑ کر نومید