مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 421
مجموعه اشتہارات ۴۲۱ جلد اول قبول کرنے کے لیے ننگ و ناموس بلکہ موت سے بھی نہیں ڈرتے۔اب سوچنے ہی کا مقام ہے کہ عبد الحق نے آپ ہی مباہلہ کو معیار حق و باطل ٹھہرا کر اشتہار دیا۔ اور جب ایک مرد خدا اُس کے مقابل پر اُٹھا اور مباہلہ کیا تو ساتھ ہی فکر پڑی کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی عذاب نازل ہو کر پھر مجھ کو حق کے قبول کرنے کے لیے مجبور کیا جاوے۔ تب اسی وقت اُس نے اُسی مجلس میں کہہ دیا کہ اگر وہ لعنت جو میں نے اپنے ہی منہ سے اپنے پر کی ہے۔ مجھ پر نازل ہو گئی اور میرا جھوٹا ہونا کھل گیا۔ تب بھی میں سچ کو قبول نہیں کروں گا گو میں سور اور بندر اور ریچھ بھی بنایا جاؤں۔ پس اس سے زیادہ تر لعنت اور کیا ہوگی کہ دور دور تک ضد کے خیمے لگا رکھے ہیں اور بندر اور سو ربنا اپنے لیے پسند کر لیا، مگر حق کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔ یہ بھی سمجھ نہیں کہ اگر مباہلہ کے بعد بھی حق کو قبول نہیں کرتا تو پھر ایسے مباہلہ سے فائدہ ہی کیا ہے؟ اور اگر اپنی ہی دعا کے قبول ہونے اور لعنت کے آثار ظاہر ہونے پر بدن نہیں کانپتا تو یہ ایمان کسی قسم کا ہے اور تعجب کہ یہ بات کہنا کہ اگر میں اپنے منہ کی لعنت کا اثر اپنے پر دیکھ بھی لوں اور جو تضرع سے درخواست عذاب کی تھی اس عذاب کا وارد ہونا بھی مشاہدہ کرلوں ۔ پھر بھی میں تکفیر سے باز نہیں آؤں گا۔ کیا یہ ایمانداروں کے علامات ہیں۔ اور کیا اسی خُبثِ نیت پر مباہلہ کا جوش و خروش تھا۔ اور چونکہ اس عاجز کی طرف سے مباہلہ کا اشتہار شائع ہو چکا ہے۔ اور یہ اندیشہ ہے کہ کہیں دوسرے بزرگ بھی وہی اپنا جو ہر نہ دکھاویں جو عبد الحق نے دکھلایا۔ یعنی مباہلہ کے آثار کو اپنے لیے تو اپنے مفید مطلب ہونے کی حالت میں حجت ٹھہرالیا۔ مگر مخالف کے لیے یہ حجت نہیں ۔ لہذا اس اشتہار میں خاص طور پر میاں محمد حسین بطالوی اور میاں محی الدین لکھو کے والا ۔ اور مولوی عبد الجبار صاحب ۔ غزنوی اور ہر ایک نامی مولوی یا سجادہ نشین کو جو اس عاجز کو کافر سمجھتا ہو۔ مخاطب کر کے عام طور پر شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے تئیں صادق قرار دیتے ہیں تو اس عاجز سے مباہلہ کریں اور یقین رکھیں کہ خداوند تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا۔ لیکن یہ بات واجبات سے ہو گی کہ فریقین اپنی اپنی تحریریں یہ ثبت ہوگی دستخط گواہان شائع کر دیں کہ اگر کسی فریق پر لعنت کا اثر ظاہر ہو گیا تو وہ شخص اپنے عقیدہ سے رجوع کرے گا اور اپنے فریق مخالف کو سچا مان لے گا۔ اور اس مباہلہ کے لیے اشخاص مندرجہ ذیل بھی خاص