مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 403
مجموعه اشتہارات ۴۰۳ جلد اول صاحبو! یہ طریق فیصلہ ہے جو اس وقت میں نے ظاہر کیا ہے۔ میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کودن اور نادان اور جاہل ہے اور علم قرآن سے بالکل بے خبر ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد پانے کے تو لائق ہی نہیں۔ کیونکہ کذاب اور دجال ہے اور ساتھ اس کے ان کو اپنے کمال علم اور فضل کا بھی دعوٹی ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مخدوم مولوی حکیم نورالدین صاحب جو اس عاجز کی نظر میں علامہ عصر اور جامع علوم ہیں ۔ صرف ایک حکیم؟ اور اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب جو گویا علم حدیث کے ایک پتلے ہیں صرف ایک منشی ہیں۔ پھر باوجود ان کے اس دعوٹی کے اور میرے اس ناقص حال کے جس کو وہ بار بار شائع کر چکے ہیں۔ اس طریق فیصلہ میں کون سا اشتباہ باقی ہے۔ اور اگر وہ اس مقابلہ کے لائق نہیں۔ اور اپنی نسبت بھی جھوٹ بولا ہے اور میری نسبت بھی۔ اور میرے معظم اور مکرم دوستوں کی نسبت بھی تو پھر ایسا شخص کسی قد رسزا کے لائق ہے کہ کذاب اور دجال تو آپ ہو۔ اور دوسروں کو خواہ نخواہ دروغ گوکر کے مشتہر کرے۔ اور یہ بات بھی یادر ہے کہ یہ عاجز در حقیقت نہایت ضعیف اور بیچ ہے گویا کچھ بھی نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سر توڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے۔ چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے میاں محمد حسین کا دیکھا۔ جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور با ایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے بے خبر ہے۔ تب میں جناب الہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لكم یعنی دعا کرو کہ میں قبول کروں گا مگر میں بالطبع نافر تھا کہ کسی کے عذاب کیلئے دعا کروں آج جو ۲۹ شعبان ۱۳۱۰ ھ ہے اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کیلئے دل کھول دیا۔ سو میں نے اس وقت اسی طرح سے رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کیلئے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی ۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ انی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَا نَتَک وہ اسی موقع کیلئے ہوا تھا۔ میں نے اس مقابلہ کیلئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔ اب صاحبو! اگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلایا ے دیکھو ان کا فتوی نمبر ۴ جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۵۔