مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 397
مجموعه اشتہارات ۳۹۷ جلد اول شیخ صاحب کا میرے پاس موجود پڑا ہے لیکن اب بعض دوستوں کے خطوط اور بیانات سے معلوم ہوا کہ شیخ صاحب یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ ہمیں رہائی کی کوئی بھی اطلاع نہیں دی تھی ۔ اور نہ صر صرف اسی قدر بلکہ اس عاجز پر ایک اور طوفان باندھتے ہیں اور وہ یہ کہ گویا یہ عاجز یہ تو جانتا تھا کہ میں نے کوئی خط نہیں لکھا مگر شیخ صاحب کو جھوٹ بولنے کے لئے تحریک دے کر بطور بیان دروغ ان سے یہ لکھوانا چاہا کہ اس عاجز نے رہائی کی خبر دے دی تھی گویا اس عاجز نے کسی خط میں شیخ صاحب کی خدمت میں یہ لکھا ہے کہ اگر چہ یہ بات صحیح اور واقعی تو نہیں کہ میں نے رہائی کی اطلاع قبل از وقت بطور پیشگوئی دی ہو مگر میری خاطر اور میرے لحاظ سے تم ایسا ہی لکھ دو تا میری کرامت ظاہر ہو۔ شیخ صاحب کا یہ طریق عمل سن کر سخت افسوس ہوا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون ۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ شیخ صاحب کے اول و آخر کے متعلق ضرور شیخ صاحب کو اطلاع دی گئی تھی اور وہ دونوں پیشگوئیاں صحیح ہیں اور دونوں کی نسبت شیخ صاحب کی طرف خط بھیجا گیا اور وہی خط مانگا گیا تھا یا اس کا مضمون طلب کیا گیا تھا۔ شیخ صاحب نے اگر در حقیقت ایسا ہی بیان کیا ہے تو اُن کے افترا کا جواب کیا دیا جائے ناظرین اس بارے میں میرے خطوط ان سے طلب کریں اور ان کو باہم ملا کر غور سے پڑھیں لیے اگر شیخ صاحب میں مادہ فہم کا ہوتا تو پہلی ہی پیشگوئی کے خط سے میرا بریت کا خبر دینا سمجھ سکتے تھے کیونکہ اس سے بھی یہ بداہت سمجھا جا سکتا تھا کہ اس عاجز کے ذریعہ سے ہی ان کی بند خلاص ہوگی وجہ یہ کہ ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ میں نے ہی پانی ڈال کر آگ کو بجھایا۔ کیا شیخ صاحب کو یاد نہیں کہ بمقام لودہیانہ جب وہ مہ درخواست لیے مناسب کہ ہے کہ ناظرین ان قریب قریب تاریخوں کے کے تمام تمام میرے خطوط خطوط کو شیخ شیخ صاحب صاحب سے سے لے کر لے کر پڑھیں۔ ۔ میرے کسی خط کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شیخ صاحب کوئی بات خلاف واقعہ لکھیں بلکہ ان کو اپنے خط سابق کے مضمون سے خ کا ہرگز خلاف واقہ بلکہ انکو کے اطلاع دی گئی تھی اور امید تھی کہ اور امید تھی کہ یاد دلانے سے وہ مضمون انہیں یاد آ ۔ یاد آ جائے گا ۔ اس بناء پر اُن سے یہ درخو یہ درخواست کی گئی تھی کہ ہمارے خط کا یہ خلاصہ ہے اور اس کی ہم آپ سے تصدیق چاہتے ہیں مگر افسوس کہ شیخ صاحب نے میرے خط کو تو تحکم کی راہ سے دبا لیا اور مجھ پر یہ افترا کیا کہ گویا میں نے ان سے جھوٹ کہلوانا چاہا۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے تو صرف اپنے خط کے مضمون کی تصدیق کرانی چاہی تھی۔ اگر میں سچ پر نہیں تو شیخ صاحب میرا متنازعہ فیہ خط پیش کریں جس کے پہنچنے کا ان کو اقرار ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ یہ بھی اقرار ہے کہ اس میں لکھا تھا کہ فضل ہو جائے گا۔ منہ