مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 392

مجموعه اشتہارات ۳۹۲ جلد اول (۲۱) تو جان ما منور کردی از عشق فدائت جانم اے جان محمد (۲۲) دریغا گردهم صد جان درین راه نباشد نیز شایان محمد (۲۳) چه بیت ها بدادند این جوان را که ناید کس به میدان محمد (۲۴) الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران محمد (۲۵) ره مولی که گم کردند مردم بجو در آل و اعوان محمد (۲۶) الا اے منکر از شان محمد ہم از نور نمایان محمد (۲۷) کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان محمد لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک پیشگوئی واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا اندر من مراد آبادی اور لیکھر ام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں ۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ (۲۱) تو نے عشق کی وجہ ۔ کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر میری جان فدا ہو ۔ (۲۲) اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے شایاں نہیں۔ (۲۳) اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی (مقابلہ پر) نہیں آتا۔ (۲۴) اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔ (۲۵) خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل اور انصار میں ڈھونڈ ۔ (۲۶) خبر دار ہو جا! اے وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چپکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔ (۲۷) اگر چہ کرامت اب مفقود ہے۔ مگر تو آ اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے۔