مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 378
مجموعه اشتہارات ۳۷۸ جلد اول نہیں رکھی گئی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر مثلاً کسی تدبیر یا انتظام سے ایک کام جو دراصل جائز اور روا ہے سہل اور آسان ہو سکتا ہے تو وہی تدبیر اختیار کر لو کچھ مضائقہ نہیں ۔ ان باتوں کا نام بدعت رکھنا ان اندھوں کا کام ہے جن کو نہ دین کی عقل دی گئی اور نہ دنیا کی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں کسی دینی تعلیم کی مجلس پر تاریخ مقرر کرنے کیلئے ایک خاص باب منعقد کیا ہے جس کا یہ عنوان ہے مَنْ جَعَلَ لَاهْلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً یعنی علم کے طالبوں کے افادہ کیلئے خاص دنوں کو مقرر کرنا بعض صحابہ کی سنت ہے۔ اس ثبوت کیلئے امام موصوف اپنی صحیح میں ابی وایل سے یہ روایت کرتے ہیں گان عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيْسٍ یعنی عبداللہ نے اپنے وعظ کیلئے جمعرات کا دن مقرر کر رکھا تھا۔ اور جمعرات میں ہی اس کے وعظ پر لوگ حاضر ہوتے تھے۔ یہ بھی یادر ہے کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں تدبیر اور انتظام کیلئے ہمیں حکم فرمایا ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ جو احسن تدبیر اور انتظام خدمت اسلام کیلئے ہم قرین مصلحت سمجھیں اور دشمن پر غالب ہونے کیلئے مفید خیال کریں وہی بجا لاویں جیسا کہ وہ عَزَّ اسْمُهُ فرماتا ہے ۔ وَ أَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ا یعنی دینی دشمنوں کیلئے ہر یک قسم کی طیاری جو کر سکتے ہو کرو اور اعلاء کلمہء اسلام کیلئے جو قوت لگا سکتے ہو لگاؤ۔ اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرما رہی ہے کہ جو تدبیر میں خدمت اسلام کیلئے کارگر ہوں سب بجالاؤ اور تمام قوت اپنے فکر کی اپنے بازو کی اپنی مالی طاقت کی اپنے احسن انتظام کی اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو تا تم فتح پاؤ۔ اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اس صرف قوت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔ اس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بر طبق حدیث نبوی کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنیات کوئی احسن انتظام اسلام کی خدمت کیلئے سوچنا بدعت اور ضلالت میں داخل نہیں ہے جیسے جیسے بوجہ تبدل زمانہ کے اسلام کو نئی نئی صورتیں مشکلات کی پیش آتی ہیں یا نئے نئے طور پر ہم لوگوں پر ا الانفال : ٦١