مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 372
مجموعه اشتہارات ۳۷۲ ۹۴ جلد اول - بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قیامت کی نشانی قرب قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ایک بڑی نشانی ہے جو اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو امام بخاری اپنی صحیح میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے لائے ہیں اور وہ یہ ہے يُقْبَضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اِتَّخَذَ النَّاسُ رَءُ وُسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَافْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا ۔ یعنی باعث فوت ہو جانے علماء کے علم فوت ہو جائے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں ملے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا مقتدا اور سردار قرار دیدیں گے اور مسائل دینی کی دریافت کے لئے ان کی طرف رجوع کریں گے تب وہ لوگ باعث جہالت اور عدم ملکہ استنباط مسائل خلاف طریق صدق و ثواب فتوی دیں گے پس آپ بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اور پھر ایک اور حدیث میں ہے کہ اس زمانہ کے فتوی دینے والے یعنی مولوی اور محدث اور فقیہ ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو روئے زمین پر رہتے ہوں گے ۔ پھر ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ قرآن پڑھیں گے اور قرآن ان کے خنجروں کے نیچے نہیں اترے گا یعنی اس پر عمل نہیں کریں گے۔ ایسا ہی اس زمانہ کے مولویوں کے حق میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں ۔ مگر اس وقت ہم بطور نمونہ صرف