مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 368
مجموعه اشتہارات ۳۶۸ جلد اول قبول نہیں کیا اور نہ اپنی شوخی اور بد زبانی کو چھوڑا آخر ہم نے پورے پورے اتمام حجت کی غرض سے یہ اشتہار آج لکھا ہے جس کا مختصر مضمون ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ حبو! تمام اہل مذاہب جو سزا جزا کو مانتے ہیں اور بقاء روح اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اگر چہ صدہا باتوں میں مختلف ہیں مگر اس کلمہ پر سب اتفاق رکھتے ہیں جو خدا موجود ہے۔ اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ اُسی خدا نے ہمیں یہ مذہب دیا ہے اور اسی کی یہ ہدایت ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے اور کہتے ہیں کہ اس کی مرضی پر چلنے والے اور اس کے پیارے بندے صرف ہم لوگ ہیں اور باقی سب مورد غضب اور ضلالت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں جن سے خدا تعالی سخت ناراض ہے۔ پس جب کہ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ میری راہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور مدار نجات اور قبولیت فقط یہی راہ ہے وبس اور اسی راہ پر قدم مارنے سے خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ایسوں سے ہی وہ پیار کرتا ہے اور ایسوں کی ہی وہ اکثر اور اغلب طور پر باتیں مانتا ہے اور دعائیں قبول کرتا ہے تو پھر فیصلہ نہایت آسان ہے اور ہم اس کلمہ مذکورہ میں ہر یک صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں ہمارے نزدیک بھی یہ سچ ہے کہ سچے اور جھوٹے میں اسی دنیا میں کوئی ایسا ما بہ الامتیاز قائم ہونا چاہیے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو یوں تو کوئی اپنی قوم کو دوسری قوموں سے خدا ترسی اور پر ہیز گاری اور تو حید اور عدل اور انصاف اور دیگر اعمال صالحہ میں کم نہیں سمجھے گا پھر اس طور سے فیصلہ ہونا محال ہے اگر چہ ہم کہتے ہیں کہ اسلام میں وہ قابل تعریف باتیں ایک بے نظیر کمال کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے اسلام کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے مثلاً جیسے اسلام کی توحید اسلام کے تقوی اسلام کے قواعد حفظان عفت حفظان حقوق جو عملاً و اعتقاداً کروڑہا افراد میں موجود ہیں اور اس کے مقابل پر جو کچھ ہمارے مخالفوں کی اعتقادی اور عملی حالت ہے وہ ایسی شے ہے جو کسی منصف سے پوشیدہ نہیں لیکن جبکہ تعصب درمیان ہے تو اسلام کی ان خوبیوں کو کون قبول کر سکتا ہے اور کون سن سکتا ہے سو یہ طریق نظری ہے اور نہایت بدیہی طریق جو دیہات کے ہل چلانے والے اور جنگلوں کے خانہ بدوش بھی اس کو سمجھ سکتے ہیں یہ ہے کہ اس جنگ وجدل کے وقت میں جو تمام مذاہب میں ہو رہا ہے اور اب کمال کو پہنچ گیا ہے اسی