مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 345
مجموعه اشتہارات ۳۴۵ جلد اول نعمت الہی ہے اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ا لیکن پہلے اس سے ضروری طور پر یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آئندہ ہر ایک صاحب جو کوئی خواب یا الہام اس عاجز کی نسبت دیکھ کر بذریعہ خط اس سے مطلع کرنا چاہیں تو ان پر واجب ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر اپنے خط کے ذریعہ سے اس بات کو ظاہر کریں کہ ہم نے واقعی اور یقینی طور پر یہ خواب دیکھی ہے اور اگر ہم نے کچھ اس میں ملایا ہے تو ہم پر اسی دنیا اور آخرت میں لعنت اور عذاب الہی نازل ہو اور جو صاحب پہلے قسم کھا کر اپنی خواہیں بیان کر چکے ہیں ان کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں مگر وہ تمام صاحب جنہوں نے خوا ہیں یا الہامات تو لکھ کر بھیجے تھے لیکن وہ بیانات ان کے مؤکد بقسم نہیں تھے ان پر واجب ہے کہ پھر دوبارہ ان خوابوں یا الہامات کو قسم کے ساتھ مؤکد کر کے ارسال فرماویں اور یادر ہے کہ بغیر قسم کے کوئی خواب یا الہام یا کشف کسی کا نہیں لکھا جاوے گا۔ اور قسم بھی اس طرز کی چاہیے جو ہم نے ابھی بیان کی ہے۔ اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مواخذہ الہی سے ڈرتے ہیں وہ بلا تحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے مولویوں سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اور ان کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہو جاویں کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں اور اگر اس عاجز پر شک ہو اور وہ دعوئی جو اس عاجز نے کیا ہے اس کی صحت کی نسبت دل میں شبہ ہو تو میں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اول تو بہ نصوح کر کے رات کے وقت دو رکعت نماز پڑھیں جس کی پہلی رکعت میں سورۃ یسین اور دوسری رکعت میں اکیس مرتبہ سورۃ اخلاص ہو اور پھر بعد اس کے تین سو مرتبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر خدائے تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اے قادر کریم تو پوشیدہ حالات کو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور مقبول اور مردود اور مفتری اور صادق تیری نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس ہم عاجزی سے تیری جناب میں التجا کرتے ہیں کہ اس شخص کا تیرے نزدیک ا الضحى : ١٢