مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 13

مجموعه اشتہارات الله جلد اول دیکھیں گے کہ آپ نے باثبات دونوں امر مندرجہ اشتہار کے کیا کیا وجوہات پیش کئے ہیں۔ لیکن یہ امر کسی منصف کے اختیار میں نہ ہو گا کہ صرف اس قدر رائے ظاہر کرے کہ ہماری دانست میں یہ ہے یا وہ ہے۔ بلکہ اگر کوئی ایسی رائے ظاہر کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ گویا اس نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی ۔ غرض کوئی رائے میں نہیں لیا جائے گا جب تک اس صورت سے تحریر نہ ہو کہ اصل وجوہات متخاصمین کو پورا پورا بیان کر کے تقریر مدلل ظاہر کرے کہ کسی طور سے یہ وجوہات ٹوٹ گئیں یا بحال رہیں اور علاوہ اس کے یہ سب منصفانہ آراء سے سفیر ہند میں درج ہوں گے نہ کسی اور پرچہ میں بلکہ صاحبان منصفین اپنی اپنی تحریر کو براہ راست مطبع ممدوح الذکر میں ارسال فرمائیں گے باستثنابابور لیا رام صاحب کے اگر وہ اس شوری تنقید جواب میں داخل ہوئے تو اُن کو اپنا رائے اپنے پرچہ میں طبع کرنا ہوگا اور جب کہ یہ سب آراء بقید شرائط متذکرہ بالا کے طبع ہو جائیں گی تو اس وقت کثرت رائے پر فیصلہ ہوگا اور اگر ایک نمبر بھی زیادہ ہو تو با وا صاحب کو ڈگری ملے گی۔ ورنہ آنجناب مغلوب رہیں گے۔ ۵۰۰ اشتہار مبلغ پانچ سورو پیه ۱۸۷۸ء میں راقم اس سوال کا جو آریہ سماج کی نسبت پرچہ 9 فروری اور بعد اس کے سفیر ہند میں بدفعات درج ہو چکا ہے، اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کر کے لکھ دیتا ہوں کہ اگر باوانرائن سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب منجملہ آریہ سماج کے جو اُن سے متفق الرائے ہوں ۔ ہماری ان وجوہات کا جواب جو سوال مذکورہ میں درج ہے اور نیز ان دلائل کے تردید جو تبصرہ مشمولہ اشتہار ہذا میں مبین ہے پورا پورا ادا کر کے بدلائل حقہ یقینیہ یہ ثابت کر دے کہ ارواح بے انت ہیں اور پرمیشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں تو میں پانچ سوروپیہ نقد اس کو بطور جرمانہ کے دوں گا اور درصورت نہ ادا ہونے روپیہ کے مجیب مثبت کو اختیار ہوگا کہ امداد عدالت سے وصول کرے۔ تنقید جواب کی اُس طرح عمل میں آوے گی جیسے تنقیح شرائط میں اوپر لکھا گیا ہے۔ اور نیز جواب با وا صاحب کا بعد طبع اور شائع ہونے تبصرہ ہمارے کے مطبوع ہوگا۔ المشتهر : مرزاغلام احمد رئیس قادیان ( منقول از تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۲ تا ۶ - حیات احمد جلد اول نمبر دوم صفحه ۱۸۹ تا ۹۲ اطبع دوم )