مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 302

مجموعه اشتہارات ٣٠٢ جلد اول سکے۔ اگر آپ کے ہاتھ میں ثبوت ہوتا تو آپ مجھے کب چھوڑتے۔ میں نے غیرت دلانے والے لفظ بھی سراسر نیک نیتی سے استعمال کئے اور اب بھی کر رہا ہوں مگر آپ کو کچھ شرم نہ آئی۔ میں نے یہ بھی لکھ بھیجا کہ حضرت مجھے اجازت دیجئے اور اپنی خاص تحریر سے مجھے اشارہ فرمائیے تو میں آپ ہی کے مکان پر حاضر ہو جاؤں گا اور مسئلہ حیات و وفات مسیح میں تحریری طور پر آپ سے بحث کروں گا اور میں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر میں اپنے اس الہام میں غلطی پر نکلا اور آپ نے نصوص صریحہ بینہ قطعیہ سے مسیح ابن مریم کی جسمانی حیات کو ثابت کر دکھایا تو تمام عالم گواہ رہے کہ میں اپنے اس دعوے سے دستبردار ہو جاؤں گا۔ اپنے قول سے رجوع کروں گا۔ اپنے الہام کو أَضْغَاتُ احلام قرار دے دوں گا اور اپنے اس مضمون کی کتابوں کو جلا دوں گا۔ اور میں نے اللہ جل شانہ کی قسم بھی کھائی کہ در حالت ثبوت مل جانے کے میں ایسا ہی کروں گا لیکن اے حضرت شیخ الکل! آپ نے میری طرف تو نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ میں مسافر تھا۔ آپ نے میری تکالیف کا بھی خیال نہ فرمایا۔ میں آپ ہی کے لیے دہلی میں اس مدت تک ٹھہرا رہا۔ آپ نے میری طرف ذرا رخ نہ کیا۔ عوام کو میری تکفیر کا فتوی سنا گرفتنہ انگیز ملاؤں کی طرح بھڑ کا دیا۔ مگر اپنے اسلام اور تقویٰ کا تو کوئی نشان نہ دکھلایا۔ آپ خوب یا درکھیں کہ ایک دن عدالت کا دن بھی ہے۔ ان تمام حرکات کا اس دن آپ سے مواخذہ ہو گا۔ اگر میں دہلی میں نہ آیا ہوتا اور اس قدر قسمیں دے کر اور عہد پر عہد کر کے آپ سے بحث کا مطالبہ نہ کرتا تو شاید آپ کا اس انکار میں ایسا بڑا گناہ نہ ہوتا لیکن اب تو آپ کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ اور تمام دہلی کا گنہ آپ ہی کی گردن پر ہے۔ اگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید نہ ہوتے تو شاید آپ راہ پر آسکتے لیکن آپ کی بد قسمتی سے ہر وقت ان دونوں کی آپ پر نگرانی رہی۔ میں تو مسافر ہوں ۔اب انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وطن کی طرف جاؤں گا۔ آپ کی برانگیخت سے بہت سے لعن طعن اور گندی گالیاں دہلی والوں سے سن چکا۔ اور آپ کے اُن دونوں رشید شاگردوں نے کوئی دقیقہ لعن طعن کا اُٹھا نہ رکھا ، مگر آپ کو یاد رہے کہ آپ نے اپنے خداداد علم پر عمل نہیں کیا، اور حق کو چھپایا اور تقویٰ کے طریق کو بالکل چھوڑ دیا۔ انسان اگر تقویٰ کی راہوں کو چھوڑ دے تو وہ چیز ہی کیا ہے مومن کی ساری عظمت اور بزرگی تقوی سے