مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 297

مجموعه اشتہارات ۲۹۷ جلد اول نزاع نہیں۔ فریقین بالا تفاق مانتے ہیں تو پھر ان میں بحث کیونکر ہو سکتی ہے۔ بحث کے لائق وہ مسئلہ ہے جس میں فریقین اختلاف رکھتے ہیں یعنی وفات وحیات مسیح کا مسئلہ جس کے طے ہونے سے سارا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ بصورت ثبوت حیات مسیح ، مسیح موعود ہونے کا دعویٰ سب ساتھ ہی باطل ہوتا ہے۔ اور یہ بھی بار بار اس عاجز کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے خود وعدہ کر لیا ہے کہ اگر نصوص بینہ قطعیہ قرآن وحدیث سے حیات مسیح ثابت ہو گئی تو میں مسیح موعود ہونے کا دعوی خود چھوڑ دوں گا لیکن باوجود اس کے کہ خواجہ صاحب نے اس بات کے لیے بہت زور لگایا کہ فریق مخالف ضد اور تعصب کو چھوڑ کر مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث شروع کر دیں ۔ مگر وہ تمام مغز خراشی بے فائدہ تھی ۔ شیخ الکل صاحب کی اس بحث کی طرف آنے سے جان جاتی تھی۔ لہذا انہوں نے صاف انکار کر دیا اور حاضرین کے سے جان جاتی دل ٹوٹ گئے۔ میں نے سُنا ہے کہ ایک شخص بڑے درد سے کہہ رہا تھا کہ آج شیخ الکل نے دہلی کی عزت کو خاک میں ملا دیا اور ہمیں خجالت کے دریا میں ڈبو دیا۔ بعض کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارا یہ مولوی سیچ پر ہوتا تو اس شخص سے ضرور بحث کرتا لیکن جاہل اور نادان لوگ جو دور کھڑے تھے وہ کچھ نہیں سمجھتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے بلکہ تعصب کی آگ میں جلے جاتے تھے۔ شیخ الکل صاحب کے ان معتقدین کو جو دور رہنے والے اور خاص کر جو پنجابی ہیں بڑا تعجب ہو گیا کہ یہ کیا ہوا اور کیوں شیخ الکل نے ایسے ضروری وقت میں بحث سے انکار کر دیا اور بزدلی اختیار کی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ حق پر نہیں تھے اور قرآن کریم ان کو اپنے پاس آنے سے دھکے دیتا تھا اور احادیث صحیحہ دور سے کہتی تھیں کہ اس طرف مت دیکھ۔ ہمارے خوان نعمت میں تیرے لیے کچھ نہیں ۔ سو بوجہ اس کے کہ ان کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں تھی اور نہ اس طرف کے دلائل کا ان کے پاس کوئی کافی جواب تھا۔ اس لیے وہ عاجز ہو کر گالمیت ہو گئے ۔ اور ان پر یہ خوف غالب آگیا کہ اگر میں بحث کروں گا تو سخت رسوائی میری ہوگی ۔ اور تمام رونق شیخ الکل ہونے کی ایک ہی دفعہ جاتی رہے گی اور زندگی مرنے سے بدتر ہو جائے گی۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر فی الحقیقت ایسی ہی حالت تھی تو پھر شیخ الکل نے جلسہ بحث میں صاف صاف کیوں نہ کہہ دیا کہ میں غلطی پر تھا۔ اب میں نے اپنے قول سے رجوع کیا۔ تو اس کا جواب