مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 11

مجموعه اشتہارات 11 جلد اول پر ہیں اور کوئی ایسا ایکٹ میری نظر سے نہیں گزرا جو نیک نیتی کے سوال کو جرم میں داخل کرے۔ (۲) شرط دوئم با وا صاحب کی اس طرح پر پوری کر دی گئی ہے جو ایک خط بقلم خود تحریر کر کے باقرار مضمون مشتہرہ کے خدمت مبارک باوا صاحب میں ارسال کیا گیا ہے۔ باوا صاحب خوب جانتے ہیں جو اول تو خود اشتہار کسی مشتہر کا جو باضابطہ کسی اخبار میں شائع کیا جاوے قانونا تاثیر ایک اقرارنامہ کی رکھتا ہے بلکہ وہ بلحاظ تعدد نقول کے گویا صد با تمسک ہیں۔ علاوہ ازاں چٹھیات خانگی بھی جو کسی معاملہ متنازعہ فیہ میں عدالت میں پیش کئے جاویں ایک قومی دستاویز ہیں اور قوت اقرار نامہ قانونی کے رکھتے ہیں۔ سوچٹھی خاص بھی بھیجی گئی۔ ماسوائے اس کے جبکہ اس معاملہ میں شہادات زبانی ثالثوں کی بھی موجود ہوگی تو پھر باوجود اس قدر انواع و اقسام کے ثبوتوں کے حاجت کسی عہد نامہ خاص کی کیا رہی۔ لیکن چونکہ مجھ کو اتمام حجت مطلوب ہے اس لیے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر اس ثبوت پر کفایت نہ کر کے پھر با واصاحب اقرار نامہ اشٹام کا مطالبہ کریں گے تو فوراً اقرارنامہ مطلوبہ ان کا معرفت مطبع سفیر ہند کے یا جیسا مناسب ہو خدمت میں اُن کی بھیجا جاوے گا۔ لیکن با وا صاحب پر لازم ہوگا کہ وہ در صورت مغلوب رہنے کے قیمت اشٹام کی واپس کریں۔ (۳) شرط سوئم میں با وا صاحب روپیہ وصول ہونے کا اطمینان چاہتے ہیں۔ سو واضح ہو کہ اگر باوا صاحب کا اس فکر سے دل دھڑکتا ہے کہ اگر روپیہ وقت پر ادا نہ ہو تو کس جائداد سے وصول ہوگا تو اس میں یہ عرض ہے کہ اگر باوا صاحب کو ہماری املاک موجودہ کا حال معلوم نہیں تو صاحب موصوف کو ایسے قلیل معاملہ میں زیادہ آگاہ کرنا ضروری نہیں۔ صرف اس قدر نشان دہی کافی ہے کہ در صورت تردد کے ایک معتبر اپنا صرف بٹالہ میں بھیج دیں اور ہمارے مکانات اور اراضی جو قصبہ مذکور میں قیمتی چھ سات ہزار کے موجود اور واقعہ ہیں ان کی قیمت تخمینی دریافت کر کے اپنے مضطرب دل کی تسلی کر لیں اور نیز یہ بھی واضح ہو جو بمجرد جواب دینے کے مطالبہ روپیہ کا نہیں ہو سکتا جیسا کہ با واصاحب کی تحریر سے مفہوم ہوتا ہے بلکہ مطالبہ کا وہ وقت ہوگا کہ جب گل آرائے تحریری ثالث ان اہلِ انصاف کے جن کے اسمائے مبارکہ تنقیح شرط چہارم میں ابھی درج کروں گا۔ سفیر ہند میں