مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 238

مجموعه اشتہارات ۲۳۸ جلد اول ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی ۔ امرِ رَبی تھا۔ اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا مگر اس کام کے مدارالمہام وہ لوگ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا۔ اور بھی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا، لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا۔ اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّل یہ کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی۔ اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔ اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے اس اُمید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہو گی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا اور اس نادان نے نہ سمجھا کہ خدا وند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے اور اس عاجز کا بھی حامی ۔ وہ اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔ اگر سارا جہاں مجھے برباد کرنا چاہے تو وہ اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھ کو تھام لے گا کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا۔ اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی ۔ اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو جبکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔