مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 213
مجموعه اشتہارات ۲۱۳ جلد اول بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ ان نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ ونا اتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے اور نہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لیے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں ۔ یتیموں کے لیے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لیے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لیے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں ۔ اور محبت الہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آوے۔ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو ان کی پاک استعدادوں کے ظہور و بروز کا وسیلہ ٹھیراوے۔ اور اس قدوس جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگیوں کے ازالہ کے لیے دن رات کوشش کرتا رہوں اور ان کے لیے وہ نو ر مانگوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور بالطبع خدا تعالیٰ کی راہوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور ان کے لیے وہ روح قدس طلب کروں جور بو بیت تامہ اور عبودیت خالصہ کے کامل جوڑ سے پیدا ہوتی ہے اور اس روح خبیث کی تسخیر سے ان کی نجات چاہوں کہ جو نفس امارہ اور شیطان کے تعلق شدید سے جنم لیتی ہے۔ سومیں بِتَوْفِيقِهِ تَعَالٰی کاہل اور سست نہیں رہوں گا اور اپنے دوستوں کی اصلاح طلبی سے جنہوں نے اس سلسلہ میں داخل ہونا بصدق قدم اختیار کر لیا ہے غافل نہیں ہوں گا بلکہ ان کی زندگی کے لیے موت تک بقیہ حاشیہ۔ خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیر خواہ اور دعا گو ہوں گے۔ کیونکہ بموجب تعلیم اسلام (جس کی پیروی اس گروہ کا عین مدعا ہے ) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور محبت اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ بامن و عافیت زندگی بسر کرے اور اس کی حمایت سے اپنے دینی و دنیاوی مقاصد میں بآزادی کی کوشش کر سکے اسی کا بدخواه و بداندیش ہو بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکر گزار نہ ہو تب تک خدا تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں۔ پھر دوسرا فائدہ اس با برکت گروہ کی ترقی سے گورنمنٹ کو یہ ہے کہ ان کا عملی طریق موجب انسداد جرائم ہے۔ فَتَفَكَّرُوا وَ تَأَمَّلُوا ۔