مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 203
مجموعه اشتہارات ۲۰۳ جلد اول ظاہر کرنا اپنا شیوہ کر لیوے۔ میں ایسے لوگوں کو محض اللہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جاپڑے ہیں۔ اگر ان کا یہ قول سچ ہو کہ الہامات و مکاشفات کوئی ایسی عمدہ چیز نہیں ہے جو خاص اور عوام یا کافر اور مومن میں کوئی امتیاز متین پیدا کر سکیں تو سالکوں کے لئے یہ نہایت دل توڑنے والا واقعہ ہوگا۔ میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہی ایک روحانی اور اعلیٰ درجہ کی اسلام میں خاصیت ہے کہ سچائی سے اس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الہیہ سے مشرف ہو جاتے ہیں اور قبولیت کے انوار جن میں ان کا غیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا ان کے وجود میں پیدا ہو جاتے ہیں یہ ایک واقعی صداقت ہے جو بے شمار راست بازوں پر اپنے ذاتی تجارب سے کھل گئی ہے ان مدارج عالیہ پر وہ لوگ پہنچتے ہیں کہ جو سچی اور حقیقی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں اور نفسانی وجود سے نکل کر ربانی وجود کا پیراہن لیتے ہیں یعنی نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے ربانی طاعات کی نئی زندگی اپنے اندر حاصل کرتے ہیں ناقص الحالت مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت نہیں ہوتی پھر کافر اور فاسق کو ان سے کیا نسبت ہو؟ ان کی یہ کاملیت اُن کی صحبت میں رہنے سے طالب حق پر کھلتی ہے اسی غرض سے میں نے اتمام حجت کے لئے مختلف فرقوں کے سرگروہوں کی طرف اشتہارات بھیجے تھے اور خط لکھے تھے کہ وہ میرے اس دعویٰ کی آزمائش کریں اگر ان کو سچائی کی طلب ہوتی تو وہ صدق قدم سے حاضر ہوتے سواُن میں سے کوئی ایک بھی بصدق قدم حاضر نہ ہوا بلکہ جب کوئی پیشگوئی ظہور میں آتی رہی اُس پر خاک ڈالنے کے لئے کوشش کرتے رہے اب اگر ہمارے علماء کو اس حقیقت کے قبول کرنے اور ماننے میں کچھ تامل ہے تو غیروں کے بُلانے کی کیا ضرورت؟ پہلے یہی ہمارے احباب جن میں سے بعض فاضل اور عالم بھی ہیں ۔ آزمائش کر لیں اور صدق اور صبر سے کچھ مدت میری صحبت میں رہ کر حقیقت حال سے واقف ہو جائیں پھر اگر یہ دعوئی اس عاجز کا راستی سے معرا نکلے تو انہیں کے ہاتھ پر میں تو بہ کروں گا ورنہ امید رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اُن کے دلوں پر تو بہ اور رجوع کا دروازہ کھول دے گا اور اگر وہ میری اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد میرے دعاوی کی