مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 201
مجموعه اشتہارات ۲۰۱ جلد اول شک میں پڑ گئے اور ولایت اور قربت الہیہ کی روشنیوں کے بارے میں ایک ایسا اعتقاد دل میں جمالیا کہ جو خشک فلسفہ اور کورانہ نیچریت کے قریب قریب ہے انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ مخالفین نے اپنی تکذیب کی تائید میں کون سا ثبوت دیا ہے؟ پھر اگر کوئی ثبوت نہیں اور نری بک بک ہے تو کیا فضول اور بے بنیاد افتراؤں کا اثر اپنے دلوں پر ڈال لینا عقلمندی یا ایمانی وثاقت میں داخل ہے؟ اور اگر فرض محال کے طور پر کوئی اجتہادی غلطی بھی کسی پیشگوئی کے متعلق اس عاجز سے ظہور میں آتی یعنی قطع اور یقین کے طور پر اُس کو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کیا جاتا تب بھی کسی دانا کی نظر میں وہ محل آویزش بقیہ حاشیہ۔ ہے کہ لڑکا جس کے بارہ میں پیشگوئی ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں کی تھی۔ وہ پیدا ہو کر صغر سنی میں فوت ہو گیا۔ اس کا مفصل جواب اسی تقریر میں مذکور ہے اور خلاصہ جواب یہ ہے کہ آج تک ہم نے کسی اشتہار میں نہیں لکھا کہ یہ لڑکا عمر پانے پڑ کا عمر پانے والا ہوگا اور نہ یہ کہا کہ یہی مصلح موعود ہے۔ بلکہ ؟ موعود ہے۔ بلکہ ہمارے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں بعض ہمارے لڑکوں کی نسبت یہ پیشگوئی موجود تھی کہ وہ کم عمری میں فوت ہوں گے۔ پس سوچنا چاہیے کہ اس لڑکے کی وفات سے ایک پیشگوئی پوری ہوئی یا جھوٹی نکلی؟ بلکہ جس قدر ہم نے لوگوں میں الہامات شائع کیے اکثر ان کے اس لڑکے کی وفات پر دلالت کرتے تھے چنانچہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے ان ء کے اشتہار کی یہ عبارت کہ ایک خوبصورت پاک لڑ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ یہ مہمان کا لفظ در حقیقت اسی لڑکے کا نام رکھا گیا تھا اور یہ اس کی کم عمری اور جلد فوت ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے۔ جو چند روز رہ کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہو جاوے اور جو قائم مقام ہو اور دوسروں کو رخصت کرے اس کا نام مہمان نہیں ہو سکتا۔ اور اشتہار مذکور کی یہ عبارت کہ وہ رجس سے (یعنی گناہ سے ) بکلی پاک ہے۔ یہ بھی اس کی صغر سنی کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور یہ دھوکا کھانا نہیں چاہیے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے۔ کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا پس مصلح موعود کانام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرانام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے اور ضرورت تھا کہ اس کا آنا معرض التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہو کر پھر واپس اٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمت الہیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے اور بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے بشیر ثانی کے لیے بطور ار ہا تھا اس لیے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔ اب ایک منصف انصافاً سوچ کر دیکھے کہ ہماری ان دونوں پیشگوئیوں میں حقیقی طور پر کون سی غلطی ہے ؟ ہاں ہم نے پسر متوفی کے کمالات استعداد یہ الہامات کے ذریعہ سے ظاہر کئے تھے کہ وہ فطرتاً ایسا ہے اور ایسا ہے اور اب بھی