مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 199

مجموعه اشتہارات ۱۹۹ جلد اول اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی بشیر کی موت نے جیسا کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا ایسا ہی اس پیشگوئی کو بھی کہ جو ۲۰ رفروری کے اشتہار میں ہے کہ بعض بچے کم عمری میں فوت ہوں گے۔ بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام و کمال بھروسہ اپنے مولیٰ کریم پر ہے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں یا رڈ اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین بلکہ ہم سب سے اعراض کر کے اور غیر اللہ کو مردہ کی طرح سمجھ کر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں گو بعض ہم میں سے اور ہماری ہی قوم میں سے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہمارے اس طریق کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں مگر ہم ان کو معذور رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیا گیا ہے وہ ان پر ظاہر نہیں اور جو ہمیں پیاس لگادی گئی ہے وہ انہیں نہیں ۔ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ لا اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہلِ علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے کہ برکات روحانیہ و آیات سماویہ کے سلسلہ کو جو بذریعہ قبولیت ادعیہ و الہامات و مکاشفات تکمیل پذیر ہوتا ہے لوگوں پر ظاہر کیا جائے ۔ بعض کی ان میں سے اس بارہ میں یہ بحث ہے کہ یہ باتیں ظنی وشکی ہیں اور ان کے ضرر کی امیدان کے فائدہ سے زیادہ تر ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ باتیں تمام بنی آدم میں مشترک و متساوی ہیں۔ شاید کسی قدرا دنی کم و بیشی ہو بلکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قریباً یکساں ہی ہیں۔ ان کا یہ بھی بیان ہے کہ ان امور میں مذہب اور اتقا اور تعلق باللہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ یہ فطرتی خواص ہیں جو انسان کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہر یک بشر سے مومن ہو یا کافر صالح ہو یا فاسق کچھ تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ صادر ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تو اُن کی قیل و قال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہو سکتا ہے مگر فراست صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حُب دُنیا کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجزوم کا جذام انتہا کے درجہ تک پہنچ کر سقوط اعضاء تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ا بنی اسراءیل: ۸۵