مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 195

مجموعه اشتہارات ۱۹۵ جلد اول جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ اُن پر ذرا مہربان نہیں بلکہ اُن کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور دل شکستہ نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اُسی قدر ان کی ہمت بلند اور ان کی شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہو گئے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے غرض انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے - بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے عوام الناس جیسے خدا تعالیٰ کو شناخت نہیں کر سکتے ویسے اس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص أن محبوبان الہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا صبر نہیں کر سکتے کہ ان کے انجام کے منتظر رہیں۔ عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جل شانۂ جس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس غرض سے بقیہ حاشیہ ۔ طاری تھی ۔ وہ ساری رات رو رو کے دعا کرتے رہے کہ تا وہ بلا کا پیالہ کہ جوان کے لئے مقدر تھاٹل جائے ۔ پر باوجود اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ کیونکہ ابتلاء کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔ پھر دیکھا چاہیے کہ سیدنا ومولانا حضرت فخر الرسل و خاتم الانبیاء محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتلاء کی حالت میں کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں اور ایک دعا میں مناجات کی کہ اے میرے رب میں اپنی کمزوری کی تیری جناب میں شکایت کرتا ہوں اور اپنی بیچارگی کا تیرے آستانے پر گلہ گزار ہوں۔ میری ذلت تیری نظر سے پوشیدہ نہیں۔ جس قدر چاہے سختی کر کہ میں راضی ہوں جب تک تو راضی ہو جائے مجھ میں بجز تیرے کچھ قوت نہیں۔ منہ