مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 177
مجموعه اشتہارات ۱۷۷ جلد اول ایسے ہی ہوں ۔ غرض یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعوئی الہام میں مگار اور دروغ گو خیال کرتے تھے۔ اور اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لیے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چازاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی ۔ غلام حسین عرصہ پچھیں سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کا غذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی ۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپورہ میں جاری ہے، نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور صبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ صبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بیکار تھا۔ اس لیے مکتوب الیہ نے بتامتر عجز وانکسار ہماری طرف رجوع کیا تا ہم اس ھبہ پر راضی ہو کر اس صبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی الیہ نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرا یہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا، کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور اُن کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروّت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا۔ اور یہ نکاح تمہارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا۔ اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہیں، لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام ے اصل اشتہار میں کا تب کی غلطی سے ۱۸۸۸ ء لکھا گیا ہے جو دراصل ۱۸۸۶ ء ہے۔ ہم نے نقل مطابق اصل کی ہے۔ (مرتب)