مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 143

مجموعه اشتہارات ۱۴۳ جلد اول شرارت کا حجاب نہیں وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرہ کے معنی کرنے کے وقت وہ سب احتمالات مد نظر رکھنی چاہیے جو اس فقرہ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ سو فقرہ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ صاحب لدھانوی ☆ نے اپنے اشتہار آٹھ جون ۱۸۸۶ء میں کی ہے یعنی یہ کہ مدت موعودہ عمل سے (جونو برس ہے حاشیہ ۔ یہ اشتہار بھی فائدہ عامہ کے لیے یہاں حاشیہ میں درج کیا جاتا ہے۔ (مرتب) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اشتہار واجب الاظہار يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكُفِرُونَ مبارک وے جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔ (انجیل ۱۰۵) کے ) جب سے مرزا غلام احمد صاحب ( مؤلف براہین احمدیہ ) نے یہ دعویٰ ہر یک قوم کے مقابلہ پر کرنا شروع کیا ہے کہ خاص قرآن شریف میں ہی یہ ذاتی خاصیت پائی جاتی ہے کہ اس کے نیچے اتباع سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں اور مقبولان الہی میں جگہ ملتی ہے۔ اور نہ صرف دعوی کیا بلکہ ان باتوں کا ثبوت دینے میں بھی اپنا ذمہ لیا۔ یوروپ اور امریکہ کے ملکوں تک رجسٹری کرا کر اسی ذمہ داری کے خط بھیجے اور اسی مضمون کا بیس ہزار اشتہار شایع کیا ۔ تب سے آریوں اور پادریوں وغیرہ کے دلوں پر ایک عجیب طور کا دھڑ کا شروع ہو رہا ہے اور ہر طرف سے جزع اور فزع کی آوازیں آرہی ہیں۔ بالخصوص بعض اوباش طبع آریوں نے تو صرف زبان درازی اور دشنام دہی اور نالایق بہتانوں سے ہی کام لینا چاہا۔ تاکسی طرح آفتاب صداقت پر خاک ڈال دیں۔ مگر سچائی کے ٹور ان کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتے ۔ اور یہ تو قدیم سے عادت اللہ جاری ہے کہ ہمیشہ راست باز آدمی ستائے جاتے ہیں اور ان کے حق میں نا اہل آدمی طرح طرح کی باتیں بولا کرتے ہیں ۔ مگر آخر حق کا ہی بول بالا ہوتا ہے۔ اب تازہ افترا انجیل متی باب ۵ آیت ۱۰ ا الصف : 9