مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 113

مجموعه اشتہارات ۱۱۳ جلد اول (۸) ہماری قوم میں یہ بھی ایک نہایت بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولڑ کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے ۔ یہ سرا سر تکبر اور نخوت کا طریق ہے جو سراسر احکام شریعت کے برخلاف ہے۔ بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں ۔ رشتہ ناطہ میں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا نہیں جو موجب فتنہ ہو۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں ۔ صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقُكُمْ ۔ یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے۔ (۹) ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ شادیوں میں صدہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔ سو یا د رکھنا چاہیے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتش بازی چلوانا اور کنجروں اور ڈوموں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے۔ گناہ سر پر چڑھتا ہے۔ صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔ (۱۰) ہمارے گھر میں شریعت کی پابندی کی بہت سستی ہے۔ بعض عورتیں زکوۃ دینے کے لائق اور بہت سا زیور اُن کے پاس ہے۔ وہ زکوۃ نہیں دیتیں ۔ بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کو تا ہی رکھتی ہیں۔ بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجا لاتی ہیں جیسے چیچک کی پو جا۔ بعض فرضی بیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔ بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط لگا دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا کوئی حقہ نوش نہ کھاوے بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں ، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ ہم صرف خالص اللہ کے لیے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آؤ خدا تعالیٰ سے الحجرات : ۱۴