ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 507 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 507

کے معانی کے فہم میں کتنا فرق ہوتا ہے۔<mark>اس</mark>ی اعتبار سے <mark>ایمان</mark> میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ <mark>اس</mark> کی کمی بیشی پر ایک بیّن دلیل ہے۔دوم۔<mark>اعمال</mark> القلوب مثلاً اللہ کی محبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، خشیۃ اللہ ، رجاء وغیرہ سب <mark>ایمان</mark> ہیں جیسا کہ اوپر تفصیل کی ہے۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ لوگ ان میں ایک دوسرے سے متفاضل ہوتے ہیں اور یہ ثبوت ہے <mark>ایمان</mark> کی کمی بیشی کا۔سوم۔<mark>اعمال</mark> ظاہری میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔چہارم۔انسان <mark>جو</mark> مَا لِرَبِّہٖ کو یاد رکھے اور ہر وقت انہیں زیر نظر رکھے وہ <mark>اس</mark> سے کامل ہے <mark>جو</mark> تصدیق تو کردے مگر پھر ان سے غافل ہوجاوے کیونکہ غفلت <mark>ایمان</mark> کو گھٹا دیتی ہے اور <mark>ایمان</mark>، تصدیق، ذکر اور <mark>اس</mark>تحضار کا کمال علم و یقین کے کمال کا موجب ہے۔پنجم۔<mark>جو</mark> تصدیق <mark>جو</mark> عمل کی تحریک کرے <mark>اس</mark> سے ضرور افضل ہے جس سے عمل کی قوت پیدا نہ ہو یا یوں کہو کہ ایسا <mark>ایمان</mark> جس کا ثمرہ <mark>اعمال</mark> صالحہ ہوں <mark>اس</mark> <mark>ایمان</mark> سے ضرور افضل ہے جس کا ثمرہ <mark>اعمال</mark> صالحہ نہ ہوں۔تو کیا <mark>اس</mark> سے ظاہر نہیں کہ <mark>ایمان</mark> کے مدارج ہیں۔ان بدیہی باتوں پر اگر نظر نہ بھی کی جاوے تو بھی قرآن مجید نے <mark>اس</mark> مسئلہ کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے اور بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید سے متعدد آیات پیش کی ہیں۔ان کے علاوہ ذیل کی آیات بھی <mark>اس</mark> کی موید بحق ہیں۔۱۔(الانفال :۳)۔یہ ایک ایسی بات ہے جس کو ہر شخص مومن جبکہ <mark>اس</mark> پر قرآن مجید کی آیات تلاوت کی جاویں محسوس کرتا ہے یعنی قرآن مجید کے فہم اور <mark>اس</mark> کے معانی کی معرفت سے ایک خاص قسم کا <mark>ایمان</mark> ( <mark>جو</mark> پہلے نہ تھا) <mark>اس</mark> کے قلب میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ڈیفنس حنفی لوگوں کا مذہب ہے کہ <mark>ایمان</mark> گھٹتا بڑھتا نہیں۔