ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 383

ان کا تعلق مخلوق سے محض خدا تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں بہت سی مثالیں مجھے یاد ہیں۔زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ہر شخص کی زندگی کا مطالعہ ایک قیمتی چیز ہوتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح کی علالت کے دنوں میں ان کی زندگی میرے لئے تو بہت ہی پُرغور مطالعہ ہوتا ہے۔<mark>اس</mark>ی تاریخ کو جبکہ ہمارے معزز احباب مثلاً برادرم صادق ، ڈاکٹر یعقوب بیگ، میاں معراج الدین عمر، شاہ صاحب موصوف، ڈاکٹر محمد <mark>اس</mark>ماعیل صاحب، چوہدری محمد سرفراز خان صاحب، خلیفہ نور الدین وغیرہم مو<mark>جو</mark>د تھے مفتی صاحب نے بدر کے لئے ایک ضروری تحریک کی۔آپ نے <mark>اس</mark>ے پسند فرمایا اور چند احباب کا نام لیا کہ وہ <mark>اس</mark> کار خیر میں شریک ہوں یعنی مفتی صاحب مولوی م<mark>اس</mark>ٹر محمد دین ، مولوی م<mark>اس</mark>ٹر صدرالدین، مولوی م<mark>اس</mark>ٹر غلام محمد صاحب۔<mark>اس</mark>ی سلسلہ میں مفتی صاحب نے لاہور کا ذکر کیا۔<mark>اس</mark> سے حضرت کو ان فتنہ زا ٹریکٹوں کا خیال آگیا جن کے ذریعہ آدم کے دشمنوں نے آدم ثانی کی نسل کی ایڑی کو کاٹنا چاہا تھا۔<mark>اس</mark> پر حضرت نے نہایت رنج کا اظہار فرمایا اور باو<mark>جو</mark>دیکہ لاہور کی جماعت کے اکثرافراد خدمت سلسلہ کے لئے ایک پاک نمونہ اپنی زندگیوں کا رکھتے ہیں لیکن <mark>اس</mark> فتنہ نے <mark>اس</mark> وقت بھی حضرت کی طبیعت کو مکدر کردیا اور نہایت برہم ہوکر فرمایا۔میں تو لاہور کو جانتا نہیں۔وہ ایسا قصبہ ہے کہ جہاں سے مجھ کو ایسے بڑھاپے میں <mark>اس</mark> قدر تکلیف پہنچی ہے۔<mark>اس</mark> ٹریکٹ کی یاد نے حضرت کو بہت دکھ دیا اور آپ نے از بس بیزاری کا اظہار کیا۔آپ کی آنکھیں پُرآب او رآواز میں رنج کے جذبات تھے۔فرمایا۔میرا دل بہت جلایا گیا۔میں <mark>اس</mark> وقت بوڑھا ہوں۔کیا یہ مجھ کو دکھ دینے اور تکلیف دینے کا وقت تھا؟ یہ تو مجھے محبت کرنے کا وقت تھا۔مجھے <mark>اس</mark> وقت راضی کرنا چاہیے تھا۔فرمایا۔میری دعائوں کو اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور میں خوب جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ میری