ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 317

عیسائی چوہڑوں سے برتائو دریافت ہوا کہ چوہڑے <mark>جو</mark> عیسائی ہوجاتے ہیں ان کے ساتھ بہ لحاظ اہل کتاب ہونے کے کھانا جائز ہے مگر اکثر چوہڑے عیسائی ہوکر اپنی پچھلی عادتوں پر قائم رہتے ہیں حرام کھاتے اور گاؤں کے مسلمان ان سے نفرت رکھتے ہیں۔اگر ہم ان کے ساتھ کھان پان کریں تو دوسرے مسلمانوں کے درمیان انگشت نما ہوجاتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایاکہ یہ ضروری نہیں کہ ان کے ساتھ کھایا جاوے اور <mark>جو</mark> چوہڑاپن کی عادتوں اور رسموں کا تارک نہیں ہوتا <mark>اس</mark> کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے جیسا کہ چوہڑوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔قدرت ثانیہ ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ قدرت ثانیہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا۔جب کسی قوم کا مورث اوّل اپنا کام پورا کرتا ہے تو <mark>اس</mark> کے کام کے سرانجام دینے کے و<mark>اس</mark>طے قدرت کاہاتھ نمودار ہوتا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے۔  (المائدۃ:۴)<mark>اس</mark> کا ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوگیا مگر آپ کے بعد آپ کے خلفاء نواب مجددین کے وقت بھی ہوتا رہا، وہ سب قدرت ثانیہ تھے۔قدرت ثانیہ کی حدبندی نہیں ہوسکتی۔جب کوئی قوم کسی قدر کمزور ہوجاتی ہے تب بھی اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت سے <mark>اس</mark> کی طاقت کو پورا کرنے کے و<mark>اس</mark>طے قدرت ثانیہ بھیجتا رہتا ہے۔خفیہ نکاح ایک شخص نے دریافت کیا کہ میری بی بی بیمار رہتی ہے اور کمزور ہے میں <mark>اس</mark>ے ناراض کرنا بھی پسند نہیں کرتا لیکن دوسری شادی کا بہت محتاج ہوں کیا جائز ہے کہ میں کسی سے خفیہ نکاح کرلوں؟ نکاح خواں اور گواہوں کے سوائے کسی کو خبر نہ ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ میں ایسی پلیدیوں کا فتویٰ نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (المائدۃ:۶) چھپی دوستیاں لگانا جائز نہیں۔خدا سے ڈرو۔ایسی ہی کرتوتوں کی بدولت مسلمانوں پر مصائب پڑے ہیں۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر۱۲ مؤرخہ ۲۲ ؍ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۳،۴)