ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 184

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت موسیٰ کا ذکر بہت کیا ہے جس کی و جہ (المزمل :۱۶) <mark>معلوم</mark> ہوتی ہے۔<mark>اس</mark> سے <mark>معلوم</mark> ہوتا ہے کہ نبیوں کے آپس میں کوئی نہ کوئی تعلق ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن میں بھی آتا ہے۔ (اٰل عمران : ۶۹)۔<mark>اس</mark> قسم کے تعلقات ایک امت میں بھی فیما بین لوگوں کے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ جب کچھ قیدی آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں ان کوچھوڑ دیا جاوے۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ بیٹا باپ کو اور باپ بیٹے کو قتل کرے۔ا س پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ ابراہیم ہے اور عمرؓ نوحؑ ہے۔ایسا ہی جو حدیث میں آیا ہے کہ ہر ایک نبی اپنے مبشر نبی کی عمر سے نصف عمر کا ہوا ہے۔<mark>اس</mark> سے بھی <mark>معلوم</mark> ہوتا ہے کہ یہ حکم کسی خاص جماعت انبیاء کے بارہ میں ہے جن کا پتہ ہم نہیں لگا سکتے کیونکہ(المؤمن :۷۹) کا معاملہ بھی ساتھ ہے۔فرمایا۔حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے و<mark>اس</mark>طے دعا کی(ھود :۴۶)۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا۔ (ھود :۴۷)۔مگر حضرت ابراہیمؑ کی بابت فرمایا۔ (ھود :۷۵)۔جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔(ھود :۷۶)۔وہاں تو یہ نہ فرمایا کہ  جیسا کہ نوح علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ہر نکتہ مقامے دارد۔یہ حکموں کا اختلاف موقع کے من<mark>اس</mark>بت کے سبب سے فرمایا۔انبیاء کے بکریاں چرانے کی حکمت فرمایا۔میرے ایک <mark>اس</mark>تاد عبدالقیوم تھے فرمانے لگے کہ پہاڑ میں بکریاں چرانا بہت مشکل ہوتا ہے۔شیر چیتے وغیرہ سب درندوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور