ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 170
(۳)بوجہ ملازمت سفر <mark>نماز</mark> <mark>نماز</mark> آپ پوری پڑھا کریں۔( سوال یہ تھا کہ مجھے ہمیشہ ریل میں بوجہ ملازمت سفر رہتا ہے) (۴)جرابوں پر مسح جرابوں پر مسح جائز ہے۔(البدر جلد ۹ نمبر ۱۱۔مورخہ ۶؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۳) سوالات کے جوابات السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۱۔سنتیں اور نفل روزانہ شرع اسلام میں موجود ہیں۔دو سنتیں فجر کی <mark>نماز</mark> سے پہلے، چار سنتیں ظہر سے پہلے ، دو سنت دو نفل ظہر کے بعد، چار سنت عصر سے پہلے ،دوسنت مغرب کے بعد، دو سنت دو نفل عشاء کے بعد، آٹھ رکعت تہجد ، تین وتر ہر روز ثابت ہیں۔یہی میری تحقیق ہے۔اس کے سوائے تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضو … اشراق ہے۔۲۔وتر وں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔۳۔زبان سے <mark>نیت</mark> <mark>نماز</mark> کی اسلام میں ثابت نہیں ہاں حج میں آئی ہے۔۴۔جو شخص سو جاوے یا بھول جاوے وہ جب جاگے یا جب اس کو یاد آ جاوے اس وقت <mark>نماز</mark> پڑھ لے اس کے لئے وہی وقت ہے۔۵۔عشاء کے بعد سو کر اٹھنے سے تہجد کا وقت شروع ہوتا ہے۔۶۔قبل <mark>نماز</mark> مغرب بعض صحابہ نے دو رکعت پڑھی ہیں۔۷۔ممانی کے ساتھ نکاح جائز ہے۔۸۔مردوں کو بال لمبے بڑھانے کے متعلق کوئی ممانعت شرعاً نہیں۔ہاں نبی کریم ﷺ نے شانہ تک گاہے بال بڑھائے ہیں۔۹۔پیلو کی جڑھ (کا مسواک )عرصہ تک کرنا ممنوع نہیں۔