ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 55
چہارم:۔بعض شرفا اپنی روحانی تعلیم کے واسطے یہاں مقیم ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ کوئی عمدہ ہنر اور حرفہ نہیں جانتے جس سے اپنی اور اپنے کنبے کی خبرگیری کر سکیں۔پنجم:۔بعض مسافر ایسے آجاتے ہیں جن کے پاس جانے کے <mark>لئے</mark> کرایہ نہیں ہوتا اور وہ اپنے شوق سے کسی طرح یہاں پہنچ جاتے ہیں یا کسی صدمہ سے ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔پھر واپسی کے وقت ان کو سوال کرنا پڑتا ہے یا حضرت امام حجۃ الاسلام کو رقعہ لکھتے ہیں اور تنگ <mark>کرتے</mark> ہیں۔ششم:۔بعض نو مسلم اور غربا جماعت کی شادی کا سامان یہاں کرنا پڑتا ہے اور اس کے <mark>لئے</mark> وقتاً فوقتاً چندہ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور اس طرح بعض کو امراض میں ایسی <mark>ضرورت</mark>یں پیش آجاتی ہیں جن کے پورا کرنے کے <mark>لئے</mark> مالی امداد کی <mark>ضرورت</mark> پڑتی ہے۔ہفتم:۔بعض ہمارے نو<mark>جو</mark>ان ہیں جن کو کتابوں کی <mark>ضرورت</mark> پڑتی ہے اور میرے کتب خانہ میں حد سے حد دو دو تین تین نسخے ہوئے اور وہ ان کو کافی نہیں ہوتے۔ہشتم:۔بعض یتیم لڑکے اور لڑکیاں حضور کے دولت سرائے میں ہیں ان کی تعلیم اور شادی اور <mark>ضرورت</mark>وں کا خیال ہے۔نہم:۔جن نو مسلموں اور شرفا کا ارادہ ہے کہ یہاں حضور امام صادق کے قدموں میں زندگی بسر کریں ان کے <mark>لئے</mark> رہنے کو مکان نہیں اور ہمارے مکان اور حضرت جی کے تمام مکانات پر ہیں توسیع مکانات کی <mark>ضرورت</mark> ہے۔دہم:۔ہماری جماعت کے واعظ بالکل قلیل ہیں اور بااینکہ ہماری جماعت کو <mark>ضرورت</mark>یں ہیں قلت کے باعث اور اس <mark>لئے</mark> بھی کہ واعظ <mark>جو</mark> اپنی جماعت کے متعلق وعظ کرسکیں بہت کم ہیں۔ایسے واعظ بنانا ضروری امر ہے <mark>جو</mark> بحث طلب مسائل اور امور متنازع فیہا پر بحث کر سکیں۔ان <mark>ضرورت</mark>وں کے متعلق میں نے اپنے احباب کوجب کچھ سنایا تو حکیم فضل الدین ، نورالدین خلیفہ، میر ناصر نواب، منشی رستم علی، راجہ عبداللہ خان، برادر عبدالرحیم، حافظ احمد اللہ خان، وزیر خان نے <mark>پسند</mark> فرمایا۔اس <mark>لئے</mark> گزارش ہے کہ <mark>جو</mark> احباب اس خیال کو <mark>پسند</mark> فرماویں وہ اپنی