ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 31

صحبت صالحین کی نسبت لطیف مثال حضرت مولوی نور الدین <mark>صاحب</mark> اپنے طالب علمی کے زمانہ کی بات سنایا <mark>کرتے</mark> ہیں کہ ہندوستان میں جب کہ ہم تعلیم پاتے تھے تو ہمارے ایک مہربان تھے بڑے پرہیزگار اور صالح آدمی۔ان کا اسم شریف تھا شاہ جی عبدالرزاق۔میں ان کی ملاقات کے <mark>لئے</mark> جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ بہت دنوں تک ان کے پاس نہ گیا اور پھر جب میں ان کی ملاقات کے <mark>لئے</mark> گیا تو انہوں نے فرمایا تم اتنی دیر تک کیوں نہ آئے؟ میں نے عرض کی کہ ایسے ہی آنا نہ ہوسکا۔فرمایا کہ کیا تم کبھی قصاب کی دوکان پر نہیں گئے؟ کیا تم کبھی قصاب کی دوکان پر بھی نہیں گئے؟ اس فقرہ کو دو تین دفعہ دہرایا۔میں نہ سمجھ سکا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ پھر آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے مجھ کو سمجھایا کہ قصاب کس طرح اپنی دونوں چھریوں کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک دوسری سے ملالیتا اور رگڑ لیتا ہے۔اس سے عارف کو سبق لینا چاہیے کہ دنیا کے دھندوں اور تعلقات کے درمیان انسان کے قلب پر بہت جلد ایک زنگ چڑھ جاتا ہے اور معرفت کی تیزی جلد کند ہونے لگ جاتی ہے جس کے واسطے ضروری ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً نیک صحبت کے ساتھ قوت پکڑتا رہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ (التوبۃ :۱۱۹) تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ رہو۔ان کی معیت سے قوت پکڑو۔مبارک ہیں وہ <mark>جو</mark> صادق کو پہچانتے ہیں اور اس کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کے منور چہرہ کے دیدار سے نور ح<mark>اصل</mark> <mark>کرتے</mark> ہیں اور اس کی جاری کی ہوئی نہروں سے ایسا پانی پیتے ہیں کہ پھر کبھی پیاسے نہیں ہوتے۔محمد صادق (ا لحکم جلد۳ نمبر۲۶ مورخہ ۲۴؍ <mark>جو</mark>لائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۷)