ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 200
اعتراض <mark>کرتے</mark> ہیں اور افسوس سے کہا جاتا ہے کہ اکثر مسلمان بھی ان اصولوں سے ناواقف ہیں ورنہ ہم <mark>جو</mark> کچھ حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق استشہاد قرآنی پیش <mark>کرتے</mark> ہیں ان کے سمجھنے میں <mark>انہیں</mark> دقت نہ ہوتی۔مثال کے طور پر آپ اسی آیت کو لیجئے جس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔<mark>جو</mark> معنی ہمارے مخالف اس آیت کے <mark>کرتے</mark> ہیں کہ ہر ایک اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آئے گا۔یہ معنے اگر کئے جاویں تو اس سے ایسی قباحت لازم آتی ہے جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں ہو سکتا اور قرآن مجید میں عظیم الشان اختلاف پیدا ہوجاوے گا۔حالانکہ قرآن کریم کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی یہ زبردست دلیل ہے کہ اس میں اختلاف نہیں جیسا کہ فرمایا ہے (النساء : ۸۳) کیونکہ اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ مسیح کے آنے پر سب اہل کتاب اس پر ایمان لے آئیں گے۔اب جائے غور ہے کہ کیا مسیح کی آمد ثانی پروہ سب اہل کتاب <mark>جو</mark> اس وقت سے پہلے مرچکے ہوں گے۔پھر زندہ ہوجائیں گے؟ <mark>جو</mark> صریحاً باطل ہے۔اور کوئی مسلمان ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا اور اگر یہ ہو کہ صرف اس زمانہ کے اہل کتاب ایمان لائیں گے تو پھر کُل کُل نہ رہا۔پھر دوسری خرابی ایسے معنے کرنے میں یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو بطور وعدہ بشارت دیتا ہے (اٰل عمران : ۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غالب رکھے گا۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ قیامت تک مسیح کے منکروں کا و<mark>جو</mark>د بھی رہے۔پھر اس آیت کے یہ معنے کس طرح صحیح ہوں گے؟ اس کے سوا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (المائدۃ : ۱۵) یعنی ہم نے قیامت تک عیسائیوں اور یہودیوں