اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 163

اِعجاز المسیح — Page 80

اعجاز المسيح ۸۰ اردو ترجمہ ومحبوبًا۔ ويجعل العبد أحمد محبوب بنا دیتی ہے اور بندے کو احمد اور ایسا ومحبا يستقرى مطلوبًا۔ وكمال محب بنا دیتی ہے جو محبوب کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور الرحيمية يجعل الله أحمد كمال رحیمیت اللہ کو احمد اور محب بنادیتی ومُحِبا۔ ويجعل العبد مُحمّدًا ہے اور بندے کو مــحــمــد اور محبوب ۔اس مقام وحبا۔ وستعرف من هذا المقام سے آپ عالی مرتبہ امام ہمارے نبی کی شان ۱۰۵ شأن نبينا الإمام الهمام۔ فإن الله معلوم کر سکتے ہیں۔ یقینا اللہ نے آپ کا نام سماه مُحَمَّدًا وأحمد وما سما في صفتيه الرحمان والرحيم بما كان فضله عليه عظيمًا۔ وما ذكر هاتين الصفتين في البسملة إلا ليعرف الناس أنهما لله كالاسم محمد اور احمد رکھا اور ان دوناموں سے (حضرت) عیسی اور موسیٰ کلیم اللہ کو موسوم نہ فرمایا بهما عيسى ولا كليمًا۔ وأشركه اور اس نے آپ ( پ علی (ع) کو ہی اپنی دو صفات رحمن اور رحیم میں شامل فرمایا اس لئے کہ آنحضور پر اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اور ہے۔ اور بسم اللہ میں ان دونوں صفات کا ذکر کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ تمام لوگ جان جائیں کہ یہ دونوں صفات اللہ کے الأعظم وللنبي من حضرتـه لئے بطور اسم اعظم ہیں اور نبی کریم کے لئے كالخلعة۔ فسماه الله محمدا جناب الہی سے بطور خلعت ہیں۔ آپ میں جو إشارة إلى ما فيه من صفة صفت محبوبیت ہے اس کی طرف اشارہ کرنے کے المحبوبية۔ وسماه أحمد إيماءً لئے اللہ نے آپ کا نام محمد رکھا اور آپ میں إلى ما فيه من صفة المُحبّية۔ أما جو صفت محبیت ہے اُس کی طرف اشارہ کرنے محمد فلأجل أن رجلا لا يحمده کے لئے اللہ نے آپ کا نام احمد رکھا۔ الحامدون حمدًا كثيرًا إلَّا بعد محمد اس لئے کہ تعریف کرنے والے کسی شخص أن يكون ذالك الرجل محبوبًا۔ کی بہت زیادہ تعریف اُس وقت تک نہیں کر سکتے وأما أحمد فلأجل أن حامدًا لا جب تک وہ شخص محبوب نہ ہو۔ اور احمد اس لئے